کرکٹ ٹیمیں اور مساوی مذہبی و لسانی نمائندگی کا مسئلہ

17 جولائ 2019

ای میل

شیکسپئر کے کردار فلاسٹاف جیسی چوڑائی رکھنے والے اور کھڑے ہوئے گھنگرالے بالوں کے مالک ہمیشہ کی طرح اپنے چہرے پر شریر مسکراہٹ سجائے کرکٹ لیجنڈ فرخ انجینئر کو اولڈ ٹریفرڈ میں کرکٹ تماشائیوں کے درمیان بیٹھا دیکھ کر میں ان عظیم پارسی کرکٹ کھلاڑیوں کی یادوں میں کھو گیا جن پر کبھی بھارت نازاں ہوا کرتا تھا۔

پھر اچانک ایک حقیقت اُجاگر ہوئی۔

1983ء اور 2011ء کی جن بھارتی کرکٹ ٹیموں نے ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، ان میں بقول راہول ڈریوڈ ملک کے ثقافتی رنگوں کا امتزاج پایا جاتا تھا، تاہم یہ گونا گونیت ویرات کوہلی کی ٹیم کے سماجی امتزاج میں نظر نہیں آئی۔ یہاں میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ثقافتی تنوع ہی ٹیم کو ناقابلِ شکست بنانے کا ضامن ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اگر ایسا ہوتا تو نیوزی لینڈ کے خلاف اہم سیمی فائنل میں کامیابی یقینی بن جاتی۔

بلکہ اس قسم کے خیال کے بالکل برعکس سفید فام کھلاڑیوں پر مشتمل جنوبی افریقی ٹیم اپنے دور کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہوا کرتی تھی، لیکن سخت گیر نسل پرستی مخالف قوانین کے ڈر کی وجہ سے ایک دو افراد ہی ایسے تھے جو ان کے دفاع کے لیے آگے بڑھے۔

اس کے علاوہ صرف سیاہ فام کھلاڑیوں پر مشتمل ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلے دن سے ہی ناقابلِ شکست بنی ہوئی تھی لیکن جب اس ٹیم میں روہن کنہائی اور ایلون کالی چرن جیسے دیگر رنگوں کے کھلاڑی شامل ہوئے تب اس ٹیم کو کسی قسم کے نقصان کے بجائے فائدہ ہی پہنچا، ٹھیک جس طرح نسل پرستانہ قوانین کی منسوخی کے بعد ماکھایا نی تینی، ہاشم آملہ یا عمران طاہر وغیرہ جیسے کھلاڑیوں نے جنوبی افریقی ٹیم میں ایک نئی روح پھونکی۔

اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ویسٹ انڈیز نے 1970ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی ٹیم میں ایک سفید فام کھلاڑی بھی شامل کیا تھا۔

اور کیا یہاں اس بات کو نظر انداز کرنا مناسب ہوگا کہ لارڈز کے میدان پر سنسنی خیز فائنل میں زیادہ تر سفید فام کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کے جس اکلوتے سیاہ فام کھلاڑی نے نیوزی لینڈ کی شکست میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ چند ہفتوں پہلے تک قومی ٹیم کا حصہ بھی نہیں تھا؟

بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں ہر بھارتی فیورٹ ٹیم کی زینت بڑھانے کے لیے ناری کانٹریکٹر، پولی امریگر، انجینئر یا رُسی سورتی پر مشتمل پارسی کھلاڑیوں کی ترتیب کو میدان میں لانے کی توقع کرنا معمول سا بن گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو اکثریتی ملک کی نمائندہ ٹیم جس نے کپل دیو کی زیرِ قیادت اپنا پہلا ورلڈ کپ اٹھایا تھا اس میں روجر بینی، سید کرمانی اور بلوندر سنگھ سندھو بھی شامل تھے جو عالمی اسٹیج پر خوشی کے ان لمحات میں پیش پیش نظر آئے، ٹھیک اس طرح 2011ء میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں ہربجن سنگھ، سری سانتھ، ظہیر خان، یوسف پٹھان اور مناف پٹیل شامل تھے۔

1983ء اور 2011ء کی جن بھارتی کرکٹ ٹیموں نے ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، ان میں بقول راہول ڈریوڈ ملک کے ثقافتی رنگوں کا امتزاج پایا جاتا تھا، تاہم یہ گونا گونیت ویرات کوہلی کی ٹیم کے سماجی امتزاج میں نظر نہیں آئی۔

بنگلادیش کے ورلڈ کپ اسکواڈ میں کم از کم 2 ایسے اہم کھلاڑیوں کو دیکھا جاسکتا ہے جن کی شناخت بنگلہ دیش کی غالب ثقافتی پہچان کے بالکل برعکس ہے، جبکہ سنہالی نسل کے افراد کی اکثریت رکھنے والے ملک سری لنکا کی ٹیم میں متھیا مرلی دھرن کا انمول ٹیلنٹ نکال دیا جائے تو سوچیں اس ٹیم کا مقام کیا ہوگا؟

پاکستان، جہاں مختلف سماجی و سیاسی وجوہات کی بدولت اکثریتی مذہب کی شناخت ظاہر کرنے کے عمل کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، وہاں ماضی میں انیل دلپت اور یوسف یوحنا نے اس ملک کی ٹیم کو زبردست قوت بخشی تھی۔ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ یوحنا نے پاکستان کی مذہبی اکثریت کی شناخت اپنا لینے میں ہی زبردست روحانی تسکین حاصل کی۔

ایک ملک کی جانب سے تمام رنگ و نسل کے افراد کو یکساں اہمیت دینے کا نظریہ ظاہر ہے کہ گلے میں کسی تعویذ کی طرح تو نہیں پہنا جاسکتا ہے۔ تاہم نیوزی لینڈ کے باسیوں نے اپنے ثقافتی تنوع کے اظہار کا ایک سب سے اچھا طریقہ قومی ترانے کی صورت میں ڈھونڈ نکالا ہے، جو 2 زبانوں انگریزی اور ماؤری پر مشمتل ہے، دراصل ماؤری زبان اس ملک کے حقیقی باسیوں کی زبان ہے۔

ہم نے اسکول میں برطانیہ کی جانب سے گلبرٹ اور ایلس جزیروں کے حقیقی باشندوں میں کرکٹ متعارف کروانے کی جرات، رسک اور اکثر اوقات مزاح سے بھرپور کوششوں کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ سر آرتھر گرمبل کی کتاب 'پیٹرن آف آئی لینڈ' جتنی زیادہ مزیدار کہانی ہے اتنی ہی زیادہ اس ثقافتی تنوع کے کلونیل قبولیت کے بارے میں قارئین کو معلومات فراہم کرتی ہے، جن کی حوصلہ افزائی اور تحفط کے لیے برطانیہ کی جانب سے کوششیں بھی کی گئیں۔ دراصل دُور واقع پیسفک جزیروں پر کرکٹ کو متعارف کروانا بھی اسی ایک کڑی تھی۔

میرے ایک دوست نے مجھے لیسسٹر یونیورسٹی کے پراشنت کدامبی کا بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا مضمون فارورڈ کیا۔ اس مضمون میں بہترین انداز میں بھارتی اور برطانوی اشرافیہ کی جانب سے ’بھارتی‘ کرکٹ ٹیم جوڑنے کے لیے کی جانے والی ابتدائی کوششوں کے بارے مفصل انداز میں بتایا گیا ہے۔

کدامبی نے اپنے مضمون میں راہول ڈریوڈ کا یہ بیان شامل کیا ہے کہ، ’گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارتی ٹیم نے اس ملک کی پہلے کبھی اتنی زیادہ نمائندگی نہیں کی جتنی گزشتہ ایک دہائی کے دوران کی ہے۔ جس ملک سے ہم تعلق رکھتے ہیں، ایک ایسا ملک جہاں لوگ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں، مختلف زبان زبانیں بولتے ہیں، مختلف مذاہب کی پیروی کرتے ہیں، مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

اور اس کے باوجود کرکٹ اور ملک کے درمیان تعلق نہ کبھی فطری رہا اور نہ ہی ناگزیر۔

’12 برس اور 3 ناکام کوششوں کے بعد کہیں جا کر 1911ء کے موسمِ گرما میں مختلف شناخت کے کھلاڑیوں پر مشتمل پہلی بھارتی ٹیم کرکٹ کے میدان میں اتری اور زبردست کامیابی حاصل کرنے والی فلم لگان سے وجود میں آنے والے مقبول تاثر کے برعکس یہ ’قومی ٹیم‘ برٹش راج کے خلاف نہیں بلکہ اس کی اپنی مرتب کردہ تھی۔‘

لیسسٹر سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان کے مطابق پہلی بھارتی ٹیم نے برٹش پریس کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ ہندوستانی اشرافیہ اور برٹش گورنروں (و دیگر) کی مخلوط متنوع ٹیم نے کرکٹ پچ پر ہندوستانیوں کی موجودگی کے تصور کو حقیقی روپ دیا۔

یہی وجہ ہے کہ 1898ء میں کمار شری رنجیت سنگھ جی، یا رنجی کی کارکردگی کے باعث پہلی بار یہ ٹیم ہر ایک کے موضوع کا محور بن گئی تھی۔ اس بھارتی شہزادے نے اپنی شاندار بلے بازی سے برطانیہ اور اس کے زیرِ اثر دنیا پر اپنا سحر طاری کردیا تھا۔

بھارتی ٹیم مرتب کرنے کے لیے برطانیہ کی ابتدائی کوششیں ناکام رہیں کیونکہ ’مجوزہ ٹیم میں نمائندگی کو لے کر ہندوؤں، پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان زبردست تقسیم پائی گئی۔‘

جب برطانیہ اس کوشش میں کامیاب ہوا تب وجود میں آنے والی بھارتی ٹیم کے کپتان بھارت کی سب سے طاقتور سکھ ریاست کے ’عیاش اور اس وقت حال ہی میں تخت نشین ہونے والے مہاراجہ‘ 19 سالہ بھپندر سنگھ آف پٹیالہ بنے، جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر چنا گیا۔ ٹیم میں 6 پارسی، 5 ہندو اور 3 مسلمان کھلاڑی شامل تھے۔ کدامبی لکھتے ہیں کہ دلت باؤلر پالونکر بالو ’بھارت کے پہلے عظیم کرکٹر‘ تھے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ، ’ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 20ویں صدی کی ابتدا میں کلونیل بھارت کے اندر مختلف ثقافتی اور سیاسی معنوں کا کس طرح احاطہ کیا گیا۔‘

مانچسٹر میں فرخ انجینئر کی موجودگی نے مجھے اس بالوں کی کریم کی بھی یاد دلادی جس کی تشہیر یہ شائستہ کرکٹ کھلاڑی کیا کرتے تھے اور جو ایک پوری نسل میں مقبول بھی رہی۔

لیکن، انہیں دیکھ کر مجھے عظیم فلمی گلوکارہ آشا بھوسلے کے اس انٹرویو کی یادیں بھی تازہ ہوگئی، جس میں ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کشور کمار، مُکیش اور مَنا ڈے میں سے ان کے پسندیدہ گلوکار کون ہیں تو اس پر انہوں نے جواب دیا کہ، ’آپ محمد رفیع کو بھول گئے ہیں۔‘


یہ مضمون 16 جولائی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔