کیا حکمران ملک چلانے کو مذاق سمجھتے ہیں؟

16 اکتوبر 2020

ای میل

لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔
لکھاری ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں دوسری مرتبہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال بھی جب اسی قسم کی صورتحال درپیش تھی تو حکومت نے اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں بہت شور شرابے کے ساتھ گندم اور چینی کے حوالے سے 2 تحقیقاتی رپورٹس منظرِ عام پر آئیں تھیں۔

ان رپورٹوں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد تلخ بیانات کا تبادلہ بھی ہوا، جس کا خمیازہ جہانگیر ترین کو ادا کرنا پڑا۔ پہلے تو انہوں نے ٹیلی ویژن پر آکر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی لیکن بعد میں وہ بھی لندن چلے گئے جو ہر اس شخص کے لیے جائے پناہ ہے جسے اپنے ملک میں مشکلات کا سامنا ہو۔

رپورٹ میں جو دوسرا نام تھا وہ کسی اور کا نہیں بلکہ ملک میں موجود وزیرِ خوراک خسرو بختیار کا نام تھا۔ لیکن انہوں نے ملک سے فرار ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا تبادلہ دوسرے محکمے میں کردیا گیا اور یوں ان کی مشکلات ختم ہوگئیں۔

اس وقت وزیرِاعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ بھی کی تھی۔ میں ان الفاظ کو لفظ بہ لفظ دہراتا ہوں تاکہ کسی غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ’گندم اور چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس وعدے کے مطابق فوراً اور کسی ترمیم کے بغیر جاری کردی گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ذاتی مفادات اور سمجھوتوں نے ماضی کی سیاسی قیادت کو اس اخلاقی جرأت سے محروم رکھا جس کی بنیاد پر وہ ایسی رپورٹ کے اجرا کی ہمت کر پاتیں۔ میں کسی بھی کارروائی سے پہلے اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کے نتائج کا منتظر ہوں، جو 25 اپریل تک مرتب کرلیے جائیں گے۔ انشاءاللہ، ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ عوامی مفادات کا خون کرکے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا’۔

مزید پڑھیے: خان صاحب 5 سالہ مدت کی نہیں، بلکہ ملک کی فکر کیجیے!

پھر آنے والے دنوں میں پریس کانفرنسوں، ٹی وی پروگرامات اور پارٹی رہنماؤں کے بیانات میں یہی نکات بار بار دہرائے گئے کہ حکومت نے یہ تحقیقاتی رپورٹ جاری کرکے ایک بے نظیر کام کیا ہے۔ ان کی حکومت فرانزک رپورٹ جاری ہونے کے بعد تمام ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرے گی جس کے بعد ‘کوئی بھی گروہ عوامی مفادات کا خون کرکے منافع نہیں سمیٹ سکے گا’۔

اور آج 6 ماہ بعد یوں لگ رہا ہے جیسے وقت خود کو دہرا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی انہی دنوں میں مہنگائی میں اضافے کا آغاز ہوا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ طاقتور گروہوں کو تحقیقاتی رپورٹس، کامیابی کی ٹوئیٹ اور جارحانہ بیانات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گزشتہ سال مہنگائی کے آغاز پر سب سے پہلے سندھ حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا اور اس سال بھی یہی کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی پچھلی حکومتوں کو قصور وار ٹھہرایا گیا تھا اور مہنگائی اور حزبِ اختلاف کی حکومت مخالف تحریک کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس سال بھی اسی قسم کے بیانات دیے جائیں گے۔

حکومت نے حزبِ اختلاف کو احتجاج سے باز رکھنے کے لیے کورونا وائرس کا سہارا لینا شروع کردیا ہے، جبکہ دوسری طرف عمران خان نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں تحریک انصاف کے وکلا ونگ کے ایک بڑے پروگرام میں شرکت کی۔ ناجانے وہاں کتنے لوگوں نے ماسک لگایا ہوا ہوگا اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھا ہوگا۔

اپریل میں جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں گندم کی قیمتیں بڑھنے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ 2019ء کی گرمیوں میں حکومت نے گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہیں کیا تھا۔

یہ رپورٹ اپریل 2020ء میں جاری ہوئی اور جولائی کے مہینے سے ہمیں مسلسل ہونے والے حکومتی اجلاسوں کی ویسی ہی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں جیسی گزشتہ سال موصول ہو رہی تھیں۔ لیکن جولائی کے مہینے میں جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک بار پھر گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہ کرسکیں تو صورت حال پر نظر رکھنے والوں نے آنے والے حالات کا اندازہ لگا لیا تھا۔ پھر گندم کی درآمدات کے لیے بھی جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ ایسا تھا جس سے چند بڑے درآمد کنندگان فائدہ اٹھا سکیں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جب ملک میں گندم کی خریداری کم ہونے کی وجہ سے گندم کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے درآمدات کو کھولنے کا فیصلہ کیا تو یہ شرط لگا دی گئی کہ کم سے کم 5 لاکھ ٹن گندم کی کھیپ منگوائی جاسکتی ہے، حالانکہ اس ضمن میں کوئی پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی تاکہ جو چاہے وہ گندم درآمد کرسکے۔ 5 لاکھ ٹن کی شرط نے چھوٹے درآمد کنندگان کو اس دوڑ سے باہر کردیا اور بڑے درآمد کنندگان کے لیے میدان صاف ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا انہیں تسلی بخش جواب مل سکا یا نہیں۔

اگست کے مہینے سے ہی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا تھا اور گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی وفاقی حکومت نے سندھ کو قصور وار ٹھہرانا شروع کردیا، وہ واحد صوبہ جہاں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعت کی حکومت ہے۔ 12 اگست کو وزیرِ اطلاعات نے ہمیں بتایا کہ حکومت کی پہلی ترجیح آٹے کی قیمتوں کو متوازن رکھنا ہے اور کسی کو بھی آٹا مہنگے داموں بیچنے نہیں دیا جائے گا۔ اور یہ کہ وزیرِاعظم نے آٹے اور چینی سمیت اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھنے کا نوٹس لیا ہے اور قیمتوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی ہے۔ اس حوالے سے روزانہ اجلاس ہورہے ہیں اور صوبائی حکام کو اس ضمن میں ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 900 سے 1150 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور کراچی (سندھ) میں یہ 1700 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ یہ تو اگست کے مہینے کی بات تھی۔ منگل کے روز اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1100 سے 1300 روپے جبکہ سندھ میں 1100 سے 1500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں آٹا مہنگا ہوا جبکہ سندھ میں اس کی قیمت میں کمی آئی ہے۔

24 اگست کو وزیرِ صنعت حماد اظہر نے ہمیں بتایا کہ چونکہ اب درآمدات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس لیے اب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہونا شروع جائیں گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اور اب وزیرِاعظم ہمیں بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا ہے اور اب پیر، یعنی 12 اکتوبر سے ٹائیگر فورس قیمتیں نیچے لانے کے لیے کام کرے گی۔ اس صورتحال میں تو ایک ہی سوال بنتا ہے کہ کیا حکمران ملک چلانے کو مذاق سمجھتے ہیں؟


یہ مضمون 15 اکتوبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔