دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں! ایک یادگار دن

اصل شائقینِ کرکٹ کے لیے یہ 'ابتدائے عشق' ہے۔ آج اپنے پہلے تاثر کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت دونوں کو بہت کچھ سیکھنا ہے۔
اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2021 10:01am

ہوسکتا ہے کئی شائقین کو یاد ہو کہ پاکستان نے 2012ء کے آواخر میں ایک مختصر ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کھیلنے کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ یہ بلاشبہ ایک یادگار دورہ تھا، محض اس لیے نہیں کہ عرصے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلی 2 طرفہ سیریز تھی بلکہ اس لیے بھی کہ اس سے قبل بھارت نے ایک اشتہار بنایا تھا، جس کے بول تھے 'جب پاکستان سامنے ہوتا ہے تو کروڑوں آنکھیں ٹکٹکی لگائے، ایک ہی چیز کہتی ہیں، 'ان سے مت ہارنا'۔

یہ اشتہار چاہے ہمیں جتنا بھی بُرا لگے، اس سیریز کا جو بھی نتیجہ نکلا، ان سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ اس اشتہار کا ایک جملہ پاک بھارت رقابت کو بخوبی بیان کرتا ہے 'اِن سے مت ہارنا'۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ڈھائی سال بعد اتوار کو جب پہلی بار دونوں ممالک آمنے سامنے آئے تو بھی ان کے شائقین یہی کہہ رہے تھے ’اِن سے مت ہارنا۔‘

پاکستان کا کٹھن سفر

پاکستان کے لیے ٹی20 ورلڈ کپ 2021ء تک پہنچنے کا سفر ہرگز آسان نہیں تھا۔ ورلڈ کپ کے لیے اس کی تیاریوں کو یکے بعد دیگرے بڑے دھچکے پہنچے۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز سال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے لیے بہت ضروری اور اہم تھیں لیکن نیوزی لینڈ پاکستان پہنچ کر سیریز کھیلے بغیر واپس چلا گیا جبکہ انگلینڈ نے آنے سے ہی معذرت کرلی۔

یہی نہیں گزشتہ چند ماہ میں پاکستان کرکٹ کے انتظامی معاملات میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوئی ہے۔ چیئرمین کرکٹ بورڈ سے لے کر ٹیم کے کوچز تک، سب کو بدلا گیا اور 'سونے پہ سہاگہ' ورلڈ کپ میں پاکستان کا بھارت کے خلاف ریکارڈ ہے۔

پاکستان کے لیے ٹی 20 ورلڈ کپ 2021ء تک پہنچنے کا سفر ہرگز آسان نہیں تھا
پاکستان کے لیے ٹی 20 ورلڈ کپ 2021ء تک پہنچنے کا سفر ہرگز آسان نہیں تھا

ایک بھیانک تاریخ

‏1992ء میں پہلی بار کسی ورلڈ کپ میں پاک-بھارت ٹاکرا ہوا تھا۔ گوکہ پاکستان بعد میں ورلڈ چیمپیئن بنا تھا لیکن یاد رہے کہ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

وہ دن ہے اور آج کا دن، ورلڈ کپ چاہے ون ڈے کا ہو یا ٹی 20 کا، روایتی حریف کے خلاف پاکستان کے نصیب میں ہار ہی رہی۔ یہ وہ 'ریکارڈ' ہے جو بھارت کے شائقین بڑے فخر کے ساتھ پیش کرتے ہیں باوجود اس کے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں بھارت کے خلاف مجموعی فتوحات میں پاکستان آج بھی کہیں آگے ہے۔

ناممکن کے ممکن ہوجانے کا دن

لیکن 24 اکتوبر 2021ء ناممکنات کے ممکن ہوجانے کا دن تھا۔ گویا پاکستان نے جس چیز کو ہاتھ لگایا سونا بن گئی۔ ٹاس جیتا، بھارت کو ابتدا ہی میں پچھلے قدموں پر دھکیلا، حریف کی بلے بازی کی کمر توڑ دی، باؤلنگ کے بخیے بھی ادھیڑ دیے اور بغیر کسی نقصان کے 'ٹیم انڈیا' کا دیا گیا ہدف حاصل کرلیا۔

جی ہاں! پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ 2021ء میں بھارت کے خلاف اپنا پہلا مقابلہ ہی پوری 10 وکٹوں سے جیتا۔ پاکستان بھارت کے خلاف تو درکنار کبھی کسی ٹیم کے خلاف 10 وکٹوں سے کوئی ٹی 20 نہیں جیتا تھا بلکہ بھارت بھی خود 10 وکٹوں سے کبھی نہیں ہارا تھا۔ یہ حیران کن ریکارڈ بھی اس دن کے لیے لکھا تھا۔

پاکستان بھارت کے خلاف تو درکنار کبھی کسی ٹیم کے خلاف 10 وکٹوں سے کوئی ٹی 20 نہیں جیتا تھا—فوٹو: اے ایف پی
پاکستان بھارت کے خلاف تو درکنار کبھی کسی ٹیم کے خلاف 10 وکٹوں سے کوئی ٹی 20 نہیں جیتا تھا—فوٹو: اے ایف پی

دِلّی کے شیشے ٹوٹیں گے

ویسے بھارت نے اس مرتبہ بھی ایک اشتہار بنایا تھا اور یقین جانیں وہ بھی حرف بہ حرف درست ثابت ہوا۔ یہ بدنامِ زمانہ 'موقع موقع' والے اشتہار کا ہی تسلسل تھا جس میں پاکستانی شائق کا کردار ادا کرنے والا اداکار کہتا ہے، 'اس بار بابر، رضوان دبئی میں ایسے چھکے ماریں گے کہ دلّی میں شیشے ٹوٹیں گے' اور یہ بھی کہ 'اس مرتبہ بابر اور شاہین کو مت بھول جانا'۔

اس اشتہار کے عین مطابق پاکستان کے یہی کھلاڑی 'آ گئے تے چھا گئے'۔ شاہین آفریدی نے ابتدائی اوورز میں ہی بھارتی اوپنرز کو ٹھکانے لگا دیا۔ ان کی روہت شرما اور کے ایل راہول کو پھینکی گئی گیندیں ایک عرصے تک ویسے ہی ذہنوں میں تازہ رہیں گی، جیسے محمد عامر کا چیمپیئنز ٹرافی 2017ء کے فائنل میں بھارت کے خلاف اسپیل تھا۔ شاہین آفریدی نے پاکستان کو امید دی، حوصلہ دیا اور ٹیم کی باڈی لینگویج ہی بدل دی۔

خوش قدم دبئی

ویسے دبئی کا خوبصورت میدان بھی پاکستان کے لیے خوش نصیب ہے۔ پاکستان اس میدان پر مسلسل 7 فتوحات حاصل کرچکا ہے۔ بھارت سے قبل یہاں ہونے والے اپنے آخری تمام 6 ٹی20 مقابلے 2 ویسٹ انڈیز، 2 آسٹریلیا اور 2 نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان نے جیتے اور یہی تسلسل ہمیں بھارت کے مقابلے میں بھی نظر آیا۔

شاہین + رضوان + بابر کی فیصلہ کُن ضربیں

پاکستان کی فتح کی بنیاد شاہین آفریدی کے ابتدائی باؤلنگ اسپیل نے رکھی تھی۔ پاکستان نے پاور پلے میں ہی بھارت کی 3 وکٹیں لے کر مقابلے کا رخ طے کردیا تھا۔ البتہ کوہلی کے 57 رنز کی بدولت بھارت نے کسی حد تک اپنی اننگ بحال کرلی تھی۔ بھارت نے آخری 5 اوورز میں 51 رنز بلکہ آخری 10 اوورز کو دیکھا جائے تو اس میں 91 رنز کا اضافہ کیا تھا۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابتدائی نقصان کے بعد کسی حد تک تلافی ہوگئی تھی۔

میچ میں فتح کے بعد محمد رضوان کپتان بابر اعظم سے بغلگیر ہیں— فوٹو: اے ایف پی
میچ میں فتح کے بعد محمد رضوان کپتان بابر اعظم سے بغلگیر ہیں— فوٹو: اے ایف پی

لیکن یاد رہے کہ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ اسے اوس پڑنے کی وجہ سے باؤلنگ میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بھارت کے پاس بہت کم وقت تھا، اسے ابتدا ہی میں پاکستان پر بھرپور وار کرنا تھے تاکہ جلد از جلد اسے دباؤ میں لائے اور اوس پڑنے سے پہلے پہلے مقابلے کو اپنے حق میں جھکا لے۔ پھر 'چَیز' کرنے میں پاکستان کی کمزوری کو تو سب جانتے ہی ہیں۔

لیکن یہاں پر پھر انہونی ہوگئی۔ بابر اعظم اور محمد رضوان نے ایک لمحے کے لیے بھی مقابلے پر گرفت کمزور نہ پڑنے دی۔ ابتدائی 2 اوورز میں ہی 18 رنز حاصل کرکے دونوں کھلاڑیوں نے جو رفتار حاصل کی، وہ آخر تک برقرار رہی۔ اپنے کام میں مہارت رکھنے والے کسی ہنرمند کی طرح ان کا ہر ہر قدم نپا تلا اور سوچا سمجھا نظر آیا۔ اننگ ابتدا ہی سے عین اسی طرح آگے بڑھتی رہی جیسے یہ سب طے شدہ تھا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ اسے اوس پڑنے کی وجہ سے باؤلنگ میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے—— فوٹو: اے ایف پی
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ اسے اوس پڑنے کی وجہ سے باؤلنگ میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے—— فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے 18ویں اوور میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 152 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ بابر اعظم 52 گیندوں پر 68 اور محمد رضوان 55 گیندوں پر ناقابلِ شکست 79 رنز کے ساتھ شاداں و فرحاں میدان سے لوٹے۔

دل موہ لینے والے مناظر

پاکستان کی کامیابی کے بعد ہمیں میدان میں ایسے مناظر دکھائی دیے، جن کی ہمیں بہت ضرورت ہے۔ کوہلی کا سب سے پہلے مبارک باد کے لیے بابر اور رضوان کے پاس آنا، گلے لگنا، مسکراہٹوں کے تبادلے، پھر مہندر سنگھ دھونی کی بابر اعظم اور دیگر پاکستانی کھلاڑیوں سے ملاقات، ٹیموں کے ایک دوسرے سے مصافحے کے دوران دوستانہ رویے کا اظہار اور شاہنواز ڈاہانی کا دھونی کے ساتھ 'فین مومنٹ'، یہ سب اس مقابلے کو یادگار بنا گئے ہیں۔

آگے کیا؟

پاک بھارت مقابلوں کو ہی کرکٹ سمجھنے والے 'موسمی مداحوں' کے لیے تو سمجھیں ورلڈ کپ آج ہی ختم ہوگیا لیکن اصل شائقینِ کرکٹ کے لیے یہ 'ابتدائے عشق' ہے۔ آج اپنے پہلے تاثر کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت دونوں کو بہت کچھ سیکھنا ہے۔ پاکستان کے پاس موقع ہے کہ اس کامیابی کو بھول کر اگلے مقابلوں پر نظریں جمائے جبکہ بھارت کو بڑے مقابلے میں بڑی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آئندہ کی تیاری کرنے کا مرحلہ درپیش ہے۔


فہد کیہر کرکٹ کے فین ہیں اور مشہور کرکٹ ویب سائٹ کرک نامہ کے بانی ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر [email protected] کے نام سے لکھتے ہیں۔