سال 2025 میں دہشت گردی میں مسلسل پانچویں سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حملوں اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافے نے واضح کر دیا ہے کہ یہ محض عارضی دھچکے نہیں بلکہ سنگین سکیورٹی بحران ہے۔
شائع05 جنوری 202601:39pm
رانا ثنااللہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ بیانات نے سیاسی جمود توڑنے کی ایک ممکنہ راہ دکھائی ہے، جسے حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے، ورنہ ملک عدم استحکام اور معاشی ابتری کی طرف جا سکتا ہے۔
حکومت اپنے لیے نئے مسائل پیدا کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
طویل عرصے سے پاکستان کے بڑے شہر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ رہے ہیں، لیکن اسلام آباد میں خودکش حملہ ایک بڑی سیکیورٹی کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے۔
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا تھا لیکن جب طاقتور سلطنت نافرمان قوم کو 'سزا' دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ان حقائق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بھارت کے خلاف شواہد نئی دہلی اور بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنا درست راستہ ہوگا کیونکہ پہلگام کے بعد بھارتی بیانیے کو اقوامِ عالم نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔
پاکستان نے 5 طیارے گرا کر اپنی خودمختاری پر حملے کا سخت جواب دیا، اب امید کرتے ہیں کہ نئی دہلی پیغام سمجھ گیا ہو اور ایسی مزید ہتک آمیز کوتاہیاں نہ دہرائے۔
کمرتوڑ مہنگائی اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے درمیان لیبر یونینز، ذہنی اور جسمانی طور پر تھکے ہوئے ورکرز کی نمائندگی کرتی ہیں جنہیں فوری بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
جنگ بندی معاہدے نے ظاہر کیا کہ دنیا کی سب سے مسلح افواج بھی قابض عوام کے جذبے کو توڑ نہیں پائیں جنہوں نے ہزاروں جانیں تو قربان کردیں لیکن اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔
فیض حمید پر عائد الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کے تانے بانے ملک کی بڑی سیاسی جماعت سے جوڑے جاتے ہیں تو فوج کو ان کے ٹرائل کو منظرعام پر لانے کے لیے غور کرنا چاہیے۔
جنوبی کوریا کی فوج کا کردار بھی عجیب ہے، کھڑکیاں توڑ کر پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے لیے انہیں عوامی مزاحمت کا سامنا تھا لیکن انہوں نے عام شہریوں پر گولیاں نہیں چلائیں۔