بچھڑنے کا موسم اور ڈاکٹر آصف فرخی

02 جون 2020

ای میل

ساری زندگی انگریزی اور اردو زبان میں لکھتے اور پڑھتے رہے۔ دنیا بھر میں کہاں کیسا فکشن لکھا جا رہا ہے، پاکستان میں رہتے ہوئے اس سے باخبر رہتے— تصویر بشکریہ: ٹوئیٹر
ساری زندگی انگریزی اور اردو زبان میں لکھتے اور پڑھتے رہے۔ دنیا بھر میں کہاں کیسا فکشن لکھا جا رہا ہے، پاکستان میں رہتے ہوئے اس سے باخبر رہتے— تصویر بشکریہ: ٹوئیٹر

رواں برس کے ماتھے پر لکھا ہے، یہ بچھڑنے کا سال ہے۔ بہت سارے لوگوں کے چلے جانے کا ایک سبب تو کورونا کی عالمی وبا ہے، لیکن جانے والے تو ویسے بھی جا رہے ہیں اور بھلا جانے والوں کو کون روک سکتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے معروف خاکہ نویس ’ممتاز رفیق’ چلے گئے، ابھی کچھ دن پہلے معروف ترقی پسند صحافی اور ادیب ’احفاظ الرحمن’ رخصت ہوئے اور ابھی میں آپ سے معروف افسانہ نگار، مترجم، مدون، مدیر اور ’کراچی لٹریچر فیسٹیول’ کے بانی، ڈاکٹر آصف فرخی کا پُرسہ لکھ رہا ہوں کہ وہ بھی ہم سے جدا ہوگئے ہیں۔

رواں سال میں ایسی اور کئی ادبی و علمی شخصیات کی رحلت سے شہرِ کراچی سمیت ملک بھر میں ادبی محفلیں ماند پڑچکی ہیں، ان جانے والوں کی یاد میں پاکستان کا ادبی منظر نامہ سوگوار ہے۔

ڈاکٹر آصف فرخی 16 ستمبر 1959ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی ممتاز ادبی شخصیت اور مدرس تھے۔ آپ کی والدہ ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی اور شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی ہیں۔ آباء کا تعلق ہندوستان کے شہر فرخ آباد سے تھا، اسی مناسبت سے والد نے اور پھر آپ نے بھی فرخی کا صیغہ نام کے ساتھ استعمال کیا۔

والدین کی طرف سے ملنے والی روایتی تربیت اور جدید تعلیم نے ان کی شخصیت میں ایک نکھار پیدا کیا، جس کو ان کی گفتگو میں بھی محسوس کیا جاسکتا تھا۔ گھر میں ادبی ماحول میسر آیا، تو اردو ادب کے بڑے بڑے ادیبوں کی صحبت اختیار کی اور کئی ادبی ادوار کے خود بھی شاہد رہے۔ پھر ایسا دور بھی آیا، جب انہوں نے خود ادب کا ایک دور متعین کیا اور ’کراچی لٹریچر فیسٹیول’ کے بانی کی حیثیت سے شہرِ کراچی میں یادگار ادبی میلہ شروع کیا، جو اسلام آباد سے ہوکر لندن تک جا پہنچا۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول’ کے بانی کی حیثیت سے شہرِ کراچی میں یادگار ادبی میلہ شروع کیا
کراچی لٹریچر فیسٹیول’ کے بانی کی حیثیت سے شہرِ کراچی میں یادگار ادبی میلہ شروع کیا

اس ادبی میلے پر اعتراضات بھی ہوئے، لیکن اسی کے ذریعے کئی معرکے بھی سر ہوئے، جن کا کریڈٹ ڈاکٹر آصف فرخی کے سوا کسی کو نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ان کے ادبی یار دوستوں کی اکثریت نے وقتی فوائد سمیٹے اور تنقیدی نشتر ان کے حصے میں آئے، لیکن پھر بھی وہ ثابت قدم رہے۔

شہرِ کراچی میں ‘ادب فیسٹیول’ کے نام سے امینہ سیّد کے ساتھ مل کر ایک اور نئے ادبی میلے کی بنیاد رکھی۔ پاکستان میں عہدِ حاضر میں ادب کے نام پر لاکھوں لوگوں کو جمع کرنے کا کریڈٹ بھی انہی کا ہے، جس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تو بات ہوسکتی ہے، لیکن اس میں ایک قابلِ ستائش بات یہ ہے، وہ خواب دیکھتے تھے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ ان کے خوابوں کی تعبیر یہ ادبی میلے تھے، جہاں قاری اور ادیب کے مابین مکالمہ ہو اور ملاقاتیں بھی، جنہیں ادبی دنیا میں یاد رکھا جائے گا۔

آمینہ سیّد کے ساتھ ادب فیسٹیول نامی ادبی میلے کا بھی آغاز کیا
آمینہ سیّد کے ساتھ ادب فیسٹیول نامی ادبی میلے کا بھی آغاز کیا

ان دنوں ڈاکٹر آصف فرخی کراچی میں قائم ’حبیب یونیورسٹی’ سے وابستہ تھے۔ اس سے پہلے وہ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی کے ساتھ مل کر ادبی میلے کی داغ بیل تو ڈال ہی چکے تھے، ان کی یہ وابستگی تقریباً ایک دہائی پر محیط رہی۔

ماضی میں ڈاکٹر صاحب، آغا خان یونیورسٹی بورڈ اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’یونیسیف’ سے بھی منسلک رہے۔ ڈاؤ میڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکا کی ہاورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ساری زندگی انگریزی اور اردو زبان میں لکھتے اور پڑھتے رہے۔ دنیا بھر میں کہاں کیسا فکشن لکھا جا رہا ہے، پاکستان میں رہتے ہوئے اس سے باخبر رہتے اور ادبی دوستوں کو بھی مطلع کرتے۔ دونوں زبانوں پر یکساں مہارت بھی ان کا ایک ہنر تھا، اب جو ہمارے معاشرے سے ناپید ہو رہا ہے۔

ان کے ایک بہت قریبی دوست اور بی بی سی اردو سروس کے سابقہ براڈ کاسٹر اور ممتاز صحافی انور سن رائے سے ہم نے ان کے متعلق گفتگو کی، اور انہوں نے بتایا کہ ‘اس بار میں نے جب برطانیہ میں ‘بکر پرائز’ کے لیے شارٹ لسٹ ہونے والے ادیبوں کی بابت گفتگو کی، تو میں نے اس بار نامزد ہونے والے 6 ادیبوں کے بارے میں کسی ایک کو بھی نہیں پڑھا تھا۔ جس پر فرخی صاحب نے بتایا کہ وہ ان میں سے 3 ادیبوں کو پڑھ چکے ہیں، عالمی فکشن سے ان کی دلچسپی کا عالم یہ تھا۔ نہ صرف خود لکھتے پڑھتے، بلکہ دوستوں کو بھی ترغیب دیتے، حتیٰ کہ کسی دوست کی کتاب اپنے ادارے سے کسی وجہ سے اگر شائع نہ کرپاتے، تو پھر بھی اس کی اشاعت کا بندوبست کسی نہ کسی طرح کرتے۔ دھیمے مزاج کے حامل، انسان دوست ادیب اور مترجم، جن کے بچھڑنے کا بہت غم ہے اور اس بات کا بھی دکھ ہے کہ انہوں نے اپنی نجی اور گھریلو زندگی کے ایک انتہائی نوعیت کے رونما ہونے والے واقعہ کو دل سے لگالیا، جس سے ان کی صحت گرتی چلی گئی اور آخرکار یہی صدمہ جان لیوا ثابت ہوا‘۔

ڈاکٹر آصف فرخی کی ادبی جہتیں تو بہت ساری ہیں، لیکن جن شعبوں میں ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں، ان میں افسانہ نگاری، ترجمہ نویسی اور ادارت سازی شامل ہیں۔ انہوں نے بطورِ افسانہ نگار جو کچھ لکھا، ان افسانوں کے 7 مجموعے شائع ہوئے۔

ادبی تنقید کے تناظر میں لکھے گئے مضامین کی 2 کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں، جبکہ تراجم کے کئی مجموعے ان کے علاوہ ہیں۔ ایک ادبی رسالہ ’دنیا زاد’ بھی جاری کیا، جس کے ذریعے عالمی اور ملکی ادب کے فروغ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ ان سب تخلیقات کے ساتھ ساتھ درجنوں کتابوں کی تدوین بھی کی، شعری انتخاب کیے، جن کو پاکستان کے مختلف اور بڑے بڑے اشاعتی اداروں نے شائع کیا۔ معروف پاکستانی ادیب ’انتظار حسین’ سے دلی قربت رکھتے تھے، جب وہ بکر پرائز کے لیے نامزد ہونے کے بعد برطانیہ گئے تو ڈاکٹر آصف فرخی ہی ان کے ہم سفر تھے، اور یوں ہمیں وہ روداد بھی کتابی شکل میں پڑھنے کو ملی۔ خود اپنا اشاعتی ادارہ ’شہرزاد’ قائم کیا اور سیکڑوں کتابیں چھاپیں۔

ریڈیو پاکستان سے بھی وابستگی رہی۔ ڈان اخبار سمیت پاکستان کے مختلف بڑے انگریزی اردو کے اخبارات میں مضامین لکھنے کے علاوہ ویب سائٹس کے لیے تحریریں بھی لکھیں۔ مختلف ادبی شخصیات کے انٹرویوز بھی کیے، جو کتابی شکل میں چھپے۔ کچھ عرصے سے وہ ’ہم سب’ ویب سائٹ کے لیے ویڈیو کالم بھی ریکارڈ کروا رہے تھے، جبکہ ڈان اخبار کے لیے ان کا آخری کالم 10 مئی کو شائع ہوا اور ویڈیو کالم، جو 21 مئی کو ریکارڈ ہوا، وہ آج کی موجودہ سماجی صورتحال کا عکس پیش کر رہا ہے۔

اس ویڈیو میں ہم دیکھ سکتے ہیں، ان دنوں ڈاکٹر صاحب کی گرتی صحت نے انہیں خاصا کمزور کر دیا تھا، پھر وہ ذیابطیس کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔ نجی زندگی میں ملنے والے صدمے سے اس مرض کا توازن بگڑا، طبعیت مزید ناساز ہوئی، اگرچہ علاج معالجہ بھی جاری تھا مگر افسوس کہ اسی دوران دل کا دورہ پڑا اور وہ زندگی ہار گئے۔

اس موقع پر ڈاکٹر شیر شاہ سید، جو ڈاکٹر ہونے کے علاوہ خود بھی ایک اچھے افسانہ نگار ہیں، انہوں نے ہم سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ڈاکٹر آصف فرخی کی تدفین 2 جون بروز منگل، بعد نمازِ عصر، جامعہ کراچی کے قبرستان میں ہوگی۔ ان کو والد کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ ان کی اہلیہ سیمی صاحبہ اور 2 بیٹیاں غزل اور انوشے ملک سے باہر ہیں، شاید وہ ان آخری رسومات میں شرکت بھی نہیں کرسکیں گی۔ کورونا سے پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے بھی زیادہ تر لوگ شرکت نہیں کر پائیں گے، خاص طور پر جو کراچی سے باہر کسی اور شہر میں رہتے ہیں یا بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے اہل خانہ، جن میں ان کے بھائی طارق فرخی انتظامات دیکھ رہے ہیں، انہوں نے درخواست کی ہے کہ فی الحال دوست احباب گھر پر تشریف نہ لائیں، کیونکہ ان کی والدہ علیل ہیں اور انہیں ڈاکٹر صاحب کی رحلت کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا، اس لیے اس بات کا خیال رکھنا ہم سب کا اخلاقی فرض ہے۔

میری ڈاکٹر آصف فرخی سے پہلی ملاقات ان کے والد کے گھر میں ہوئی تھی، جب میں ان کا انٹرویو کرنے گیا تھا، یہ کوئی لگ بھگ ایک دہائی قبل کی بات ہے۔ اس کے بعد اکثر ڈاکٹر صاحب سے ملاقاتیں رہیں۔ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے حوالے سے میری کچھ تنقیدی تحریریں بھی تھیں، جس کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ تلخی بھی پیدا ہوئی، لیکن پھر وہ دُور بھی کرلی گئی۔

پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے تحت شاہد احمد دہلوی کے مشہور رسالے ’ساقی’ کا جاپان نمبر شائع ہوا، تو کراچی میں قائم جاپانی قونصل خانے میں اس رسالے کی تقریب میں بھی وہ شریک ہوئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسی فورم کے تحت کئی بار میری درخواست پر مطالعہ کے سیشن میں شریک ہوئے اور اپنی دھیمی لیکن مدلل گفتگو سے ہمیشہ اپنا اسیر کیا۔

پاکستان جاپان لٹریچر فورم میں آصف فرخی کی شرکت
پاکستان جاپان لٹریچر فورم میں آصف فرخی کی شرکت

پاکستان میں افسانہ نگاری کے میدان میں ڈاکٹر آصف فرخی کی کہانیوں کو توجہ ملے گی، کیونکہ انہوں نے روز مرہ زندگی کو کہانیوں کے روپ میں پیش کیا، ان کی کہانیوں میں ہمارے سماج کے لب و لہجے کی گونج ہے اور اداسی بھی، جس سے وہ تمام عمر پیچھا نہ چھڑا سکے۔

تدوین کے کام سے انہوں نے اپنے علمی ذوق کی آبیاری کی اور قارئین کے لیے بھی سیکھنے کے نئے در وا کیے۔ رسالے کی صورت میں ذوق کا ایک نیا پیمانہ مقرر کیا، عمدہ کتابیں چھاپیں جبکہ ادبی میلوں کو پاکستان میں نئی جہت دی۔ اب ایک مدرس کے طور پر نئی نسل کو بھی ادبی رموز سے روشناس کروا رہے تھے۔

ایک طویل ادبی جدوجہد کا باب بند ہوا، کلاسیکی اور جدید ادب کی روایت کا نمائندہ رخصت ہوا، شہرِ کراچی سمیت ملک بھر میں ادبی محفلیں ماند پڑچکی ہیں، ان جانے والوں کی یاد میں، پاکستان کا ادبی منظرنامہ سوگوار ہے۔