• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm
دنیا

نیتن یاہو کے دو مشیر ’قطر گیٹ‘ کرپشن کیس میں گرفتار، تین روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

نیتن یاہو کے دو مشیر ’قطر گیٹ‘ کرپشن کیس میں گرفتار، تین روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

اسرائیلی پولیس کی جانب سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دو سینئر مشیروں کو قطر کے ساتھ مبینہ غیر قانونی تعلقات کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد تین روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، یہ معاملہ ’قطر گیٹ‘ کے نام سے مشہور ہوا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو تحقیقات میں پیش ہوئے تھے، اس تحقیقات کو انہوں نے ’سیاسی‘ قرار دیا ہے۔

جوناتھن یوریچ اور ایلی فیلڈ اسٹائن کو قطری حکومت سے ناجائز تعلقات کے شبے میں پیر کو گرفتار کیا گیا تھا، گرفتاریوں نے ملک میں سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے، جہاں حکومت ملکی سلامتی کے سربراہ اور اٹارنی جنرل دونوں کو برطرف کرنے کی خواہاں ہیں۔

اس اقدام سے اسرائیل میں ایک احتجاجی تحریک کو پھر بھڑکا دیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے رواں ماہ غزہ میں دوبارہ لڑائی شروع کر دی گئی ہے۔

فیلڈ اسٹائن کو گزشتہ سال کے آخر میں علیحدہ گرفتار کیا گیا تھا اور اسرائیلی رہنما کی تنقیدی میڈیا کوریج کو منتقل کرنے کے لیے غزہ میں یرغمالیوں کے مذاکرات سے متعلق ایک خفیہ دستاویز کو لیک کرنے کے الزام میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

بنجمن نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ جیسے ہی مجھ سے گواہی کے لیے کہا گیا، میں نے کہا کہ میں فارغ ہوں اور فوری طور پر گواہی دینا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سیاسی تفتیش ہے، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ کتنا سیاسی ہے، جوناتھن یوریچ اور ایلی فیلڈ اسٹائن کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں … کوئی معاملہ نہیں ہے، بالکل کچھ نہیں ہے، صرف سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، اور کچھ نہیں۔

نیتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات پر الگ سے مقدمہ چل رہا ہے جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک صحافی کو بھی اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

گیس کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاست قطر کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ طویل عرصے سے فلسطینی گروپ حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کر رہا ہے۔

دنیا

غزہ پر اسرائیلی حملے میں مزید 21 فلسطینی شہید، غزہ میں قحط شروع ہوچکا ہے، حماس

غزہ پر اسرائیلی حملے میں مزید 21 فلسطینی شہید، غزہ میں قحط شروع ہوچکا ہے، حماس

وسطی اور جنوبی غزہ میں بدھ کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 21 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’سب سے مہلک حملوں میں سے ایک میں، اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 12 فلسطینی شہید ہوئے۔‘

رفح کے شمال مشرقی علاقے میں اسرائیلی حملے میں دو دیگر فلسطینی شہید ہوئے، جہاں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ ’بڑے علاقے‘ پر قبضہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حملہ کر رہی ہے۔

غزہ قحط کے مرحلے میں پہنچ گیا ہے، حماس

حماس کا کہنا ہے کہ غزہ ’قحط کے مرحلے‘ میں پہنچ گیا ہے اور اسے ’جدید تاریخ کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حماس نے کہا کہ وہ اسرائیل کو ’گھنٹے کے حساب سے بڑھتے ہوئے تباہ کن انسانی نتائج‘ کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

دو ماہ کی جنگ بندی سے قبل، عالمی غذائی تحفظ کے ماہرین نے نومبر میں متنبہ کیا تھا کہ شمالی غزہ کے علاقوں میں قحط کا قوی امکان ہے۔

اسرائیل کا غزہ کے محصور لوگوں سے حماس کو نکالنے کا مطالبہ

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے اسرائیل کے وزیر دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ غزہ پر فوج کے وسیع حملے سے ’حماس پر دباؤ بڑھے گا‘۔

اسرائیل کاٹز نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا کہ ’آج صبح آپریشن کو بڑھانے سے حماس کے قاتلوں اور غزہ کی آبادی پر دباؤ بڑھے گا اور ہم سب کے لیے مقدس اور اہم ہدف کے حصول کو آگے بڑھایا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں غزہ کے شہریوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ابھی کارروائی کریں، جنگ کے خاتمے کا یہی واحد راستہ ہے۔‘

دنیا

امریکا، اسرائیل پر تنقید، ویزا درخواست گزاروں کے ’سوشل میڈیا کی جانچ‘ کا حکم

امریکا، اسرائیل پر تنقید، ویزا درخواست گزاروں کے ’سوشل میڈیا کی جانچ‘ کا حکم

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے دوسرے ممالک میں موجود سفارتکاروں کو ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے اسٹوڈنٹ یا کسی اور ویزا کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان لوگوں کو روکنا ہے جو امریکا یا اسرائیل پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق مارکو روبیو نے یہ ہدایات ایک طویل کیبل کے ذریعے 25 مارچ کو دوسرے ممالک میں موجود سفارتی مشنز کو بھیجی ہیں۔

سفارتی مشنز کو بھیجے جانے والے کیبل کی معلومات رکھنے والے دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ مارکو روبیو کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ’فوری طور پر قونصلر افسر کو بعض طلبہ اور وزیٹر ویزا میں تبدیلی کی درخواست دینے والوں کو ’لازمی سوشل میڈیا جانچ‘ کے لیے ’فراڈ پریوینشن یونٹ‘ بھیجنا ہوگا۔‘

سفارت خانے یا قونصل خانے کے قونصلر امور کے سیکشن کا فراڈ پریوینشن یونٹ، جو ویزا جاری کرتا ہے، درخواست دہندگان کی اسکریننگ میں مدد کرتا ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ کے کیبل میں ان وسیع قواعد کی وضاحت کی گئی ہے جو سفارت کاروں کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ آیا ویزا سے انکار کرنا ہے یا نہیں۔

مارکو روبیو نے 16 مارچ کو ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم اپنے ملک میں ایسے لوگ نہیں چاہتے جو جرائم کا ارتکاب کریں اور ہماری قومی سلامتی یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔‘

واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے یہ حکم نامہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک بدری کی کوششوں میں توسیع کر رہے ہیں، جن میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں بولنے والے طلبہ بھی شامل ہیں۔

یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی مہم شروع کرنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کرنے کے نو ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امریکی ’شہریوں، ثقافت، حکومت، اداروں یا بنیادی اصولوں‘ کے حوالے سے ’دشمنی پر مبنی رویہ‘ رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی شروع کر چکے ہیں جو ان کے مطابق ’یہود مخالف‘ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہے، جس میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف جامعات میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔

دنیا

اسرائیل کی اپنے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 40 روزہ جنگ بندی کی تجویز

اسرائیل کی اپنے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 40 روزہ جنگ بندی کی تجویز

اسرائیل نے اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے غزہ میں 40 دن کےلیے جنگ بندی کی تجویز پیش کردی۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیر کو ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے۔

روزنامہ ’ ہاریٹز’ نے ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے مصر اور قطر میں ثالثوں کے ذریعے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس سے 11 یرغمالیوں کی رہائی اور 16 لاشوں کی واپسی کے علاوہ غزہ میں باقی قیدیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بدلے میں 40 دن کے لیے جنگ معطل کی جائے گی۔

روزنامہ نے کہا کہ جنگ بندی کے علاوہ، اسرائیل اپنی جیلوں سے غیر معینہ تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا۔

عہدیدار نے کہا کہ معاہدے کے پانچویں دن، اسرائیل حماس سے اپنی تحویل میں موجود باقی قیدیوں کے بارے میں معلومات طلب کرے گا۔

اسرائیل کی تجویز کے تحت، تل ابیب حماس سے معاہدے کے دسویں دن 16 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کرے گا، یہ غزہ میں حماس کے پاس موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد کا تقریباً نصف ہے۔

اسرائیلی تخمینوں کے مطابق غزہ میں 59 یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے 24 زندہ ہیں۔

اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ پر اسرائیل، حماس یا ثالثوں کی جانب سے کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، اسرائیل 9,500 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو ایسے حالات میں قید رکھے ہوئے ہے جنہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سخت قرار دیتی ہیں اور جس کے نتیجے میں اموات ہوئی ہیں۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو جنوری میں ہونے والے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر ایک اچانک فضائی حملے شروع کیے اور اس وقت سے تاحال 1000 سے زائد فلسطینی شہید اور 2000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیلی فوجی حملوں میں 50000 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گزشتہ نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے لیے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

اسرائیل کو غزہ کے محصور علاقے میں جنگ پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

دنیا

عید پر تیار ہوکر بیٹھنے والے بچے اسرائیلی حملے میں شہید

عید پر تیار ہوکر بیٹھنے والے بچے اسرائیلی حملے میں شہید

فلسطین پر اسرائیلی حملوں میں عید الفطر کے دن بھی کمی نہ ہوئی اور اسرائیلی فوج نے حملہ کرکے عید کے کپڑے پہن کر تیار ہوکر بیٹھنے والے بچوں کو بھی شہید کردیا۔

عید کے پہلے اور دوسرے دن اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ آف پریس‘ (اے پی) نے عید کے دن اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے بچوں کی تصاویر جاری کردیں، جن میں بچوں کو عید کے کپڑوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے زیادہ تر بچے اپنی کیمپوں میں اس وقت شہید کیے گئے جب تمام بچے اپنے والدین اور اہل خانہ کے ہمراہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں امداد میں ملنے والے نئے کپڑے پہن کر تیاری کر رہے تھے۔

اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 10 سال سے کم ہیں اور زیادہ تر بچے کے عید کی خوشیاں دیکھنے سے قبل ہی اپنے چھوٹے بہن اور بھائیوں سمیت شہید کیے گئے۔

اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والی 10 سالہ دانا ابو سلطان بھی ہیں جو کہ عزرائیلی حملے میں اپنی بہن، بھائی، والدین اور چچا سمیت دیگر اہل خانہ کے ساتھ شہید ہوئیں۔

دانا ابو سلطان عید کے کپڑے پہن کر تیار ہوکر بیٹھیں تھیں کہ حملے میں شہید ہوئیں—فوٹو: اے پی
دانا ابو سلطان عید کے کپڑے پہن کر تیار ہوکر بیٹھیں تھیں کہ حملے میں شہید ہوئیں—فوٹو: اے پی

شہید ہونے والی دانا ابو سلطان کو عید کے نئے کپڑوں اور ہاتھوں میں چوڑی نما چیز میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ان کی سات سالہ بہن حبیبا اور چار سالہ بھائی حسن ابو سلطان کو بھی عید کے نئے کپڑوں اور جوتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

دانا ابو سلطان کے بہن، بھائی، والدین اور چچا، چچی بھی حملے میں شہید ہوئے—فوٹو: اے پی
دانا ابو سلطان کے بہن، بھائی، والدین اور چچا، چچی بھی حملے میں شہید ہوئے—فوٹو: اے پی

اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں کے حوالے سے اقوا متحدہ (یو این) کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف) نے کہا ہے کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں محض 10 روز کے اندر 322 بچے شہید اور 609 زخمی کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے حملوں میں عید کے دنوں میں بھی تیزی دیکھی گئی اور فلسطینیوں نے حملوں کے سائے میں عید نماز کی ادائیگی کی۔

دنیا

غزہ میں 15 فلسطینی امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد

غزہ میں 15 فلسطینی امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے جنوب میں ایک اجتمائی قبر سے ہلال احمر کے 8 طبی عملے سمیت دیگر فلسطینی امدادی کارکنوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے سربراہ فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ امدادی کارکنوں کی لاشوں کو ’اجتمائی قبروں میں پھینک دیا گیا تھا جو انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اتوار کو دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ ان اموات پر ’حیران‘ ہے، ان کی لاشوں کی آج شناخت کی گئی اور باوقار طریقے سے ان کی تدفین کی گئی، یہ رضاکار دوسروں کو مدد فراہم کرنے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) نے کہا کہ ہلال احمر کے 9 ارکان پر مشتمل گروپ کا ایک کارکن تاحال لاپتا ہے۔

خیال رہے کہ ہلال احمر کے امدادی کارکنوں کا یہ گروپ 23 مارچ کو اس وقت لاپتا ہو گیا تھا جب یہ عملہ اسرائیلی حملے کے زد میں آیا تھا۔

فلسطین ہلال احمر کے مطابق فلسطین سول ڈیفنس کے چھ ارکان اور اقوام متحدہ کے ایک ملازم کی لاشیں بھی برآمد کی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ان امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا، تاہم ریڈ کراس کے بیانات میں ان حملوں کا الزام کسی پر بھی عائد نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے یہ بیان دیا تھا کہ ایک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 23 مارچ کو صہیونی فوجیوں کی فائرنگ کی زد میں کچھ گاڑیاں آئی تھیں جن میں ایمبولینس اور فائر ٹرک شامل تھے جو بغیر کسی ایمرجنسی سگنلز کے جارہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کے اس حملے میں حماس اور اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم غزہ کی پٹی میں شدت پسندوں کی جانب سے شہری بنیادی ڈھانچے کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں، جس میں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے طبی سہولیات اور ایمبولینسوں کا استعمال بھی شامل ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے ہلال احمر کے کارکنوں کی ہلاکتوں پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

آئی ایف آر سی کے مطابق یہ 2017 کے بعد سے ریڈ کراس ریڈ کریسنٹ کے کارکنوں پر ہونے والا واحد مہلک ترین حملہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں کم از کم 1060 امدادی کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں 1139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے غزہ کے محصور علاقے پر حملوں میں کم از کم 50 ہزار 21 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 13 ہزار 274 زخمی ہوچکے ہیں۔

دنیا

غزہ میں عیدالفطر جنازوں کا دن بن گئی، اسرائیلی بمباری میں 20 فلسطینی شہید

غزہ میں عیدالفطر جنازوں کا دن بن گئی، اسرائیلی بمباری میں 20 فلسطینی شہید

غزہ میں مسلسل دوسرے سال بھی رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر کی روایتی تقریبات کا سلسلہ جاری رہا، اور فلسطینی علاقے کے باشندے اسرائیلی بمباری کی گونج سے بیدار ہوئے، جس میں کم از کم 20 فلسطینی شہید ہو گئے۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایک 28 سالہ ماں نہلہ ابو متار نے کہا کہ عید، جو کبھی خاندان کے دوبارہ ملنے اور ملاقاتوں کا دن ہوا کرتی تھی، اب الوداع اور تدفین کا دن بن گئی ہے۔

غزہ کے لاکھوں رہائشیوں کی طرح وہ بھی شمالی غزہ میں اپنے گھر سے بے گھر ہو چکی ہیں اور اب خان یونس کے جنوبی علاقے میں رہ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن مساجد میں ہم نماز پڑھتے تھے وہ اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ہیں، اور جن جگہوں پر ہم جمع ہوتے تھے وہ اب کھنڈرات اور لاشوں سے بکھرے ہوئے ہیں۔

5 بچوں سمیت 8 افراد شہید

غزہ کی امدادی ٹیموں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کی علی الصبح خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں 5 بچوں سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔

ابو متار نے کہا کہ تکبیروں (عید کی نماز) کی آواز سے بیدار ہونے کے بجائے، ہم فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج سے بیدار ہوئے۔

صبح سویرے غزہ کے بہت سے باشندے عید کی روایتی نماز ادا کرنے کے لیے علاقے کے مختلف حصوں میں جمع ہوئے۔

کچھ لوگوں نے ملبے کے درمیان سڑکوں پر نماز کی چادریں اتاریں، جب کہ دیگر نے مساجد کے اندر نماز ادا کی ، جس میں قدیم عمری مسجد بھی شامل ہے ، جس کی دیواریں اب بمباری کی وجہ سے گر چکی ہیں۔

بہت سے لوگوں نے غزہ کے ہزاروں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی خیموں کے پاس نماز ادا کی، جو سنگین انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

وسطی غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں متعدد رہائشیوں نے جنگ میں شہید ہونے والے پیاروں کی قبروں پر حاضری دی، جب وہ دعا کر رہے تھے تو توپ خانے کی فائرنگ اور فوجی ڈرونز کی گونج فضا میں پھیل گئی۔

الجزیرہ نے صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں اتوار کی صبح سے اب تک 5 بچوں سمیت 20 افراد شہید ہو چکے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ المواسی پر فضائی حملے میں شہید ہونے والی 3 نوجوان لڑکیوں کو تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتاہے، اور وہ عید الفطر کے موقع پر نئے کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔

کتنا وقت ہے؟

غزہ شہر کے ایک رہائشی عزالدین موسا نے بتایا کہ اس علاقے میں خوف و ہراس کا شدید احساس پایا جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے ڈرتے ہیں، کیوں کہ ایک راکٹ کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے اور ان کی جان لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کی آنکھیں ان کے خوف کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، اس سے ہم انہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں اپنی فوجی مہم دوبارہ شروع کر دی تھی، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی متاثر ہوئی تھی۔

حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 900 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں ایک فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 50 ہزار 277 افراد کو شہید کیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

ہلال احمر کے ارکان جاں بحق

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اتوار کے روز غزہ کے شہر رفح سے مزید 11 لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے, جن میں سے 6 کی شناخت اس کے ارکان اور 4 شہری دفاع ایجنسی کے اہلکاروں کے طور پر کی گئی ہے۔

ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ اس کے 3 طبی عملہ کے ارکان اور شہری دفاع کا ایک اہلکار ’لاپتہ‘ ہے۔

طبی عملے اور عینی شاہدین نے بتایا کہ خان یونس اور غزہ کے کچھ دیگر حصوں میں اسرائیلی فضائی حملے دن بھر جاری رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق رفح میں فضائی حملے میں دو بچے زخمی ہوئے۔

محمد القادری نامی شہری نے کہاکہ دنیا عید پر خوشیاں مناتی ہے، جب کہ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں مردہ خانوں میں لیٹے رہتے ہیں، یہ سانحہ کب تک جاری رہے گا؟ محمد القادی نے اتوار کی علی الصبح خان یونس پر اسرائیلی حملے میں اپنی بہن اور بھتیجے کو کھو دیا تھا۔

غم کی عید

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے مرکزی قصبے دیر البلاح میں عادل الشائر نے کہا کہ یہ غم کی عید ہے۔

عادل الشائر نے کہا کہ غزہ پر حملے شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں انہوں نے اپنے خاندان کے 20 افراد کو کھو دیا، جن میں چند روز قبل ہی 4 نوجوان بھتیجے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اپنے پیاروں، اپنے بچوں، اپنی زندگیوں اور اپنے مستقبل کو کھو دیا، ہم نے اپنے طالب علموں، اپنے اسکولوں اور اپنے اداروں کو کھو دیا، ہم نے سب کچھ کھو دیا۔

دنیا

اسرائیل کی عیدالفطر پر بھی بمباری، 9 فلسطینی شہید، یمنی حوثیوں کا امریکی بحری بیڑے پر حملہ

اسرائیل کی عیدالفطر پر بھی بمباری، 9 فلسطینی شہید، یمنی حوثیوں کا امریکی بحری بیڑے پر حملہ

قاتل اسرائیلی فوج نے غزہ میں عید الفطر کے موقع پر بھی مظلوم اور نہتے فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں 5 بچوں سمیت 9 افراد شہید ہوگئے۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں اور بمباری سے 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والی کی تعداد کم از کم 50 ہزار 277 اور زخمی فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار 095 ہوگئی ہے۔

تاہم غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے تقریباً 2 ماہ قبل ہلاکتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زیادہ بتائی تھی اور کہا تھا کہ ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

اسرائیل کی جنگ بندی کی جوابی تجویز

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے مصر اور قطر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کے نئے منصوبے کو قبول کرنے کے بعد اسرائیل نے جوابی تجویز پیش کی ہے۔

غزہ میں خوراک کا ذخیرہ ختم

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس کا باقی ماندہ خوراک کا ذخیرہ تقریباً 10 دن میں ختم ہو سکتا ہے، جس کے بعد لاکھوں افراد کھانے سے محروم ہو جائیں گے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایف پی نے کہا ہے کہ غزہ میں اس کی آٹے کی فراہمی – جہاں اسرائیل نے چار ہفتوں سے امداد کو داخل ہونے سے روک رکھا ہے – صرف منگل تک 800،000 افراد کو خدمات فراہم کرنے والی بیکریوں کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ دوبارہ ذخیرہ کیے بغیر، مجموعی طور پر خوراک کی فراہمی 10 دن کے اندر ختم ہوسکتی ہے.

ایک بار جب دیگر تمام کھانے ختم ہو جاتے ہیں تو ”آخری حل“ کے طور پر ، اس کے پاس 415،000 افراد کے لئے فورٹیفائڈ غذائی بسکٹ کا ہنگامی اسٹاک موجود ہے۔

ڈبلیو ایف پی نے ایک بیان میں کہا کہ ڈبلیو ایف پی تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ شہریوں کی ضروریات، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے تحفظ اور فوری طور پر غزہ میں داخل ہونے والی امداد تک رسائی کو ترجیح دیں۔

بچوں کو غذائی قلت کا سامنا

غزہ میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، گزشتہ ماہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر دوبارہ ناکہ بندی کیے جانے کے بعد سے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جنہیں خوراک کی شدید کمی میسر ہے۔

اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں خوراک، ایندھن، ادویات اور انسانی امداد کا داخلہ روک دیا گیا ہے، ایسی صورت حال میں نوزائیدہ بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

حوثی باغیوں کا امریکی جنگی جہازوں پر حملہ

حوثی باغیوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہیری ٹرومین کی قیادت میں موجود جنگی جہازوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بحیرہ احمر میں تین بار نشانہ بنایا ہے۔

ٹیلی گرام پر ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ حوثی اس وقت تک مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جب تک کہ غزہ کے خلاف جارحیت ختم نہیں ہو جاتی، اور محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔

حوثی رہنما کا فلسطین کی حمایت کا اعادہ

یمن کے حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک بدر الدین الحوثی نے عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ کی مذمت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’صبا‘ کے مطابق انہوں نے فلسطینی کاز اور ان کی مزاحمت کے لیے یمنی عوام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن کے خلاف امریکی جارحیت ان کی فوجی صلاحیتوں کو کم نہیں کرے گی، اور نہ ہی غزہ کے لیے ان کی حمایت کو روکے گی۔

دنیا

حماس کے ترجمان اسرائیلی حملے میں شہید

حماس کے ترجمان اسرائیلی حملے میں شہید

شمالی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے ترجمان عبداللطیف القنوعہ شہید ہوگئے، جو اسرائیل کی جانب سے انکلیو میں اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے شہید ہونے والے گروپ کے پہلے اہم رہنما ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق الاقصیٰ ٹیلی ویژن نے بتایا کہ عبداللطیف القنوعہ اس وقت شہید ہوئے جب جبالیہ میں ان کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا۔ طبی ذرائع نے بتایا کہ اسی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ الگ الگ حملوں میں غزہ سٹی میں کم از کم 6 اور جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک شخص شہید ہوا۔

رواں ہفتے کے شروع میں اسرائیل نے حماس کے سیاسی دفتر کے رکن اسمٰعیل برہوم اور ایک اور سینئر رہنما صلاح البردویل کو شہید کر دیا تھا۔

حماس کے ذرائع کے مطابق بردویل اور برہوم دونوں حماس کے 20 رکنی فیصلہ ساز ادارے، سیاسی دفتر کے رکن تھے، جن میں سے گیارہ 2023 کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد سے شہید ہوچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے بمباری اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کر کے دو ماہ پرانی جنگ بندی ختم کر دی تھی، اور حماس پر اس کی قید میں باقی قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھایا تھا۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بڑے فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے کم از کم 830 افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ بچے اور خواتین شامل ہیں۔

حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک مستقل معاہدے پر بات چیت کے لیے ثالثوں کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

خوراک کا ذخیرہ

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس غزہ میں صرف دو ہفتوں کی خوراک باقی ہے، جہاں ’لاکھوں افراد‘ شدید بھوک اور غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

روم میں قائم ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاس غزہ میں تقریباً 5 ہزار 700 ٹن خوراک کا ذخیرہ باقی ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں تک فوڈ پروگرام کی کارروائیوں میں مدد کے لیے کافی ہے۔‘

ڈبلیو ایف پی نے کہا کہ وہ اور فوڈ سیکیورٹی کے شعبے میں شامل دیگر افراد ’تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے غزہ میں خوراک کی نئی سپلائی لانے میں ناکام رہے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’غزہ میں لاکھوں افراد ایک بار پھر شدید بھوک اور غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ پٹی میں انسانی بنیادوں پر خوراک کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے اور سرحدیں امداد کے لیے بند ہیں۔‘

ڈبلیو ایف پی نے مزید کہا کہ ’دریں اثنا، غزہ میں فوجی سرگرمیوں میں توسیع خوراک کی امدادی کارروائیوں میں شدید خلل ڈال رہی ہے اور ہر روز امدادی کارکنوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘

ایجنسی نے کہا کہ سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور لوگوں کی تیزی سے نقل مکانی کی وجہ سے، یہ ’جتنا ممکن ہو سکے، جتنی جلدی ممکن ہو کھانا تقسیم کرے گی۔‘ اس نے کہا کہ یہ انفرادی راشن کو کم کر رہی ہے تاکہ ایجنسی مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلا سکے۔

دنیا

اسرائیل نے طاقت استعمال کی تو قیدی ’تابوت میں‘ واپس آئیں گے، حماس کا انتباہ

اسرائیل نے طاقت استعمال کی تو قیدی ’تابوت میں‘ واپس آئیں گے، حماس کا انتباہ

حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر تل ابیب نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کی بازیابی کی کوشش کی تو انہیں ہلاک کیا جا سکتا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، لیکن صہیونی بمباری ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل نے جب بھی بزور قوت اپنے قیدیوں کو بازیاب کرانے کی کوشش کی تو انہیں تابوت میں واپس بھیجا جائے گا‘۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر حماس نے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو وہ غزہ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیں گے۔

نیتن یاہو نے پارلیمان کو بتایا کہ حماس ہمارے یرغمالیوں (قیدیوں) کی رہائی سے جتنا انکار کرے گی اتنا ہی ہم دباؤ ڈالیں گے، اس میں ان علاقوں پر قبضہ اور دیگر اقدامات بھی شامل ہیں جن کی میں یہاں وضاحت نہیں کروں گا۔

وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے چند روز قبل خبردار کیا تھا کہ حماس جتنا زیادہ مزاحمت کرے گی ہم اتنے زیادہ علاقے پر قبضہ کریں گے، اور اسے اسرائیل میں ضم کرتے چلے جائیں گے۔

جنوری میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے دوبارہ شروع کرنے کے صرف ایک ہفتے بعد اسرائیل نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے 2 میزائل داغے گئے، جن میں سے ایک کو روکا گیا اور دوسرا سرحد کے قریب گرا۔

کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی کی وجہ سے پیدا ہونے والے نسبتاً پرسکون ماحول کو توڑتے ہوئے اسرائیل نے گزشتہ ہفتے غزہ میں شدید بمباری اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں، جب کہ حماس نے راکٹ حملے دوبارہ شروع کر دیے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کی بحالی کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا تھا، تاکہ وہ بقیہ قیدیوں کو رہا کرے۔

اسرائیل جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں توسیع چاہتا تھا، جب کہ حماس نے دوسرے مرحلے پر بات چیت کا مطالبہ کیا تھا، جس کا مقصد مستقل جنگ بندی تھا۔

اسرائیل نے گزشتہ ہفتے گنجان آباد غزہ کی پٹی پر شدید فضائی حملے شروع کیے جس کے بعد زمینی کارروائیاں کی گئی تھیں، جس سے حماس کے ساتھ جنوری میں ہونے والی جنگ بندی کے پرسکون ماحول کو نقصان پہنچا تھا۔

دنیا

اسرائیل کیلئے خوف کی علامت بننے والی بلی کو غزہ جنگ سے کیوں جوڑا جارہا ہے؟

اسرائیل کیلئے خوف کی علامت بننے والی بلی کو غزہ جنگ سے کیوں جوڑا جارہا ہے؟

مصر کی سرحد کے قریب اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) اہلکاروں پر حملے کرنے والی جنگی بلی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، کرکل نامی اس بلی کو غزہ جنگ سے جوڑا جارہا ہے جو اسرائیل کے لیے خوف کی علامت بن گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز مصر کی سرحد کے قریب جبل حریف کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرکے انہیں زخمی کرنے والی جنگلی بلی کرکل (ایجپشن لینکس) کو پکڑلیا ہے۔

  فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنگلی بلی کو نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی کے اہلکاروں نے پکڑ کر وائلڈ لائف کے ہسپتال منتقل کیا جہاں اس کا طبی معائنہ کیا گیا۔

  فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

تاہم، اسرائیلی فوجیوں پر حملے کے بعد یہ جنگی بلی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے اور خاص طور پر عرب ممالک میں صارفین کی جانب سے اس بلی کو لے کر دلچسپ پوسٹ کی جارہی ہیں۔

  فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

مصری اور عرب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور نیوز چینلز اس بلی کی تصاویر، ویڈیوز، مضامین اور پوسٹس سے بھر گئے ہیں جس نے ’قابض فوجیوں‘ پر حملہ کیا تھا۔

  فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پر بلی کی ’اے آئی‘ تصاویر بھی وائرل ہوئی جس میں بلی کو کچھ ترمیم شدہ تصاویر میں اس جانور کو فلسطینی اسکارف جسے ’کیفیہ‘ پہنائے ہوئے دکھایا گیا جب کہ کچھ تصاویر میں بلی کے سر پر حماس کے عسکری ونگ کا نشان بھی لگا ہوا ہے۔

  فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پوسٹس میں ’شکریہ مصری کرکل‘، ’اب تو ہمارے جانور بھی اسرائیل کو دشمن تسلیم کررہے ہیں‘ اور ’قدرت بھی اسرائیل کے وجود کو مسترد کررہی ہے‘، جیسے ریمارکس دیکھنے کو ملے۔

دنیا

اسرائیل کی غزہ پر شدید بمباری، خواتین اور بچوں سمیت درجنوں فلسطینی شہید

اسرائیل کی غزہ پر شدید بمباری، خواتین اور بچوں سمیت درجنوں فلسطینی شہید

اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل آٹھویں روز بھی غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں 7 بچوں سمیت کم از کم 23 فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ میں اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے صحافی حسام شبات بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایک ہفتے میں دوسری بار پالمیرا شہر کے قریب 2 شامی فضائی اڈوں پر بھی بمباری کی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں الجزیرہ کے رپورٹر حسام شبت کو ٹارگٹ کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز حمدان بلال کی گرفتاری پر غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ میں کم از کم 50 ہزار 82 فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ 13 ہزار 408 زخمی ہوئے ہیں۔

گن شپ ہیلی کاپٹرز کی آواز سے بچے خوفزدہ

خاص طور پر شجاعیہ اور الزیتون کے علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، اسرائیلی افواج وہاں گھروں پر حملے کر رہی ہیں۔

جبالیہ میں آدھی رات کو انخلا کے احکام بھی جاری کیے گئے، جہاں فلسطینیوں کو اندھیرے کے دوران آگ کی زد میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔

ادھر دیر البلاح میں اسرائیلی فورسز نے 2 خاندانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا، ایف 16 اور اپاچی ہیلی کاپٹروں کی آواز انتہائی بلند تھی، اور فلسطینی بچوں کے لیے صدمے کا باعث بن رہی تھی۔

وسطی غزہ کے بریج کیمپ میں ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 8 فلسطینی شہری شہید ہوگئے، حملے سے لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک جلتی رہی، وسطی علاقے میں شہید ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے، جب اسرائیلی افواج اہم زمینی گزرگاہوں کو بند کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غزہ میں اب بھی کھانے پینے کی قلت ہے، ایندھن نہیں ہے، طبی سامان نہیں ہے اور کھانا پکانے کے لیے گیس بھی نہیں دی جا رہی۔

ہلال احمر کے 9 ملازمین تاحال لاپتا

فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) کے 9 ارکان مسلسل تیسرے روز بھی لاپتا ہیں، کیونکہ وہ جنوبی غزہ کے رفح شہر میں امدادی مشن سے تاحال واپس نہیں پہنچ سکے۔

پی آر سی ایس کے مطابق شہادتوں کی اطلاعات کے بعد امدادی عملہ اتوار کے روز رفح کے مضافاتی علاقے الحشاشین کی جانب روانہ ہوا لیکن اسرائیلی افواج نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی ’قسمت‘ اب تک نامعلوم ہے۔

اسرائیلی حکام نے بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے ان تک پہنچنے کی کوششوں میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

فلسطین ہلال احمر اپنی ٹیموں کی حفاظت پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، اور اسرائیلی قابض حکام کو ان کے انجام کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

شام میں بمباری سے 5 شہری شہید

شام میں درعا کے قریب اسرائیلی حملے میں 5 افراد شہید ہوئے، درعا کے گورنر سیکریٹریٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے درعا کے قریب شام کے قصبے کویا میں مہلک حملہ کیا۔

گورنر سیکریٹریٹ نے آفیشل فیس بک پیج پر پوسٹ میں کہا کہ اس حملے میں ایک خاتون سمیت 5 افراد شہید ہوئے، جس کی وجہ سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔

یہ رپورٹ اسرائیلی فوج کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے پالمیرا شہر کے قریب شام کے 2 ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کی شام میں حملوں کی تصدیق

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شام کے تدمور اور ٹی فور کے فضائی اڈوں پر حملے کیے ہیں، ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حمص میں پالمیرا شہر کے قریب واقع ہوائی اڈوں میں موجود ’باقی فوجی صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا۔

یہ حملے اسرائیلی فوج کی جانب سے انہی اڈوں پر بمباری کے چند روز بعد کیے گئے ہیں، اس سے قبل پیر کے روز یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار کاجا کلاس نے کہا تھا کہ شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام پر اسرائیل کے حملے جو دسمبر میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہوئے تھے وہ غیر ضروری تھے، کیونکہ شام اس وقت اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہا ہے، اسرائیلی حملوں سے مزید شدت پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔

غزہ میں 208 صحافی شہید

فلسطینی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 208 صحافی شہید ہوچکے ہیں، ان میں الجزیرہ کے 7 صحافی بھی شامل ہیں۔

الجزیرہ کے شہید ہونے والے صحافیوں میں 24 مارچ 2025 کو الجزیرہ مبشر کے صحافی حسام شبات شمالی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے۔

31 جولائی 2024 کو الجزیرہ کے صحافی اسمٰعیل الغول اور رامی الرفی غزہ شہر کے مغرب میں واقع شتی پناہ گزین کیمپ میں رپورٹنگ کے دوران شہید ہوئے، 15 دسمبر 2024 کو اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ کے بازار میں فلسطینی شہری دفاع کی چوکی پر فضائی حملے میں فوٹو جرنلسٹ احمد بکر اللوح کو شہید کیا۔

7 جنوری 2024 کو صحافی اور الجزیرہ کے غزہ بیورو چیف وائل دہدوح کے سب سے بڑے بیٹے حمزہ دہدوح غزہ کے علاقے خان یونس کے مغربی حصے میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔

14 دسمبر 2023 کو الجزیرہ کے صحافی سمیر ابوداقہ کو خان یونس کے فرحانہ اسکول میں رپورٹنگ کے دوران شہید کر دیا گیا تھا، سمیر ابوداقہ کے ساتھ موجود وائل دہدوح زخمی ہو گئے تھے۔

امریکا کی یمن پر حملوں کی تصدیق

امریکا کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک ویڈیو شائع کی ہے، جس میں لڑاکا طیارے رن وے سے اڑان بھر رہے ہیں، جس پر لکھا ہے کہ ’انہیں ہیل ہیری دو!!‘۔

یہ یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین طیارہ بردار بحری جہاز کا حوالہ ہوسکتا ہے، جو اس وقت یمن کے پانیوں میں موجود ہے۔

یہ پوسٹ اس وقت سامنے آئی جب یمنی میڈیا نے شمالی صوبے سعدہ پر امریکی حملوں کی تازہ ترین خبر دی تھی، صبا نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ تازہ ترین حملوں میں کم از کم 2 افراد زخمی ہوئے اور ایک کینسر کا ہسپتال تباہ ہوا تھا۔

دریں اثنا، یمن کے حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے بن گوریون ہوائی اڈے پر بھی حملے کیے ہیں۔

دنیا

مصر نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی بحالی کیلئے نئی تجویز پیش کر دی

مصر نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی بحالی کیلئے نئی تجویز پیش کر دی

مصر نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جبکہ فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 65 افراد شہید ہوئے ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز گزشتہ ہفتے 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فضائی اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد پیش کی گئی تھی، جس کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا تھا اور 15 ماہ کی جنگ کے بعد دو ماہ کی نسبتاً پرسکون مدت کا مؤثر طور پر خاتمہ ہوا تھا۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری سے اب تک تقریباً 700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 400 خواتین اور بچے شامل ہیں۔

طبی عملے کا کہنا ہے کہ پیر کو شہید ہونے والوں میں دو مقامی صحافی محمد منصور اور حسام شبات بھی شامل ہیں، حماس کا کہنا ہے کہ اس کے کئی سینئر سیاسی اور سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں۔

دو سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری منصوبے میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ہفتے 5 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے جبکہ اسرائیل پہلے ہفتے کے بعد جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کرے گا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور حماس نے اس تجویز سے اتفاق کیا ہے لیکن اسرائیل نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر ی تجویز میں غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی ٹائم لائن بھی شامل ہے جس میں باقی قیدیوں کی رہائی کے بدلے امریکی گارنٹی بھی شامل ہے۔

دنیا

غزہ: اسرائیلی حملوں میں ایک اور حماس رہنما سمیت 16 فلسطینی شہید، امریکا کی یمن پر بمباری

غزہ: اسرائیلی حملوں میں ایک اور حماس رہنما سمیت 16 فلسطینی شہید، امریکا کی یمن پر بمباری

غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری جاری ہے، اور آج صبح سحری کے وقت سے اب تک غزہ کی پٹی میں ہونے والے حملوں میں حماس کے سینئر رہنما سمیت کم از کم 16 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے نصیر اسپتال پر بمباری کے چند گھنٹوں بعد حماس کے رہنما اسماعیل برہوم سمیت کم از کم 2 افراد کے شہید ہونے کی رپورٹ ملی، جب کہ دیگر فلسطینیوں کی شہادتیں پناہ گزین کیمپ کے طور پر استعمال کی جانیوالی عمارتوں پر بمباری اور راکٹ حملوں میں ہوئی ہیں۔

ادھر امریکی فضائی حملوں میں یمن کے دارالحکومت صنعا کے گنجان آباد علاقے سمیت دو علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی قید میں فلسطینی نوجوان شہید

فلسطینی قیدیوں کے امور کے کمیشن کے مطابق مغربی کنارے کے قصبے سلواد سے تعلق رکھنے والا ایک 17 سالہ لڑکا اسرائیل کی میگیڈو جیل میں دم توڑ گیا۔ ! کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکام نے ولید خالد عبداللہ احمد کی موت کی تصدیق کی ہے، لیکن ان کی موت کے حالات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

جیل میں شہید ہونے والے لڑکے کو 30 ستمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

نوجوان کی شہادت کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حراست میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 63 ہوگئی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی گروپ حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ کے محصور علاقے پر حملوں میں کم از کم 50 ہزار 21 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 13 ہزار 274 زخمی ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوئے، کیونکہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنوری میں کیے گئے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے انکار کے بعد غزہ پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی صورت میں اسرائیل کو غزہ سے اپنی افواج واپس بلانا پڑجاتیں، یہ ایک شرط تھی جس پر اس نے مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں اتفاق کیا تھا۔

19 جنوری سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے دوران بھی، جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئی، اسرائیل نے غزہ میں 150 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے حماس کے شہید رہنما

حماس کے رہنما اسماعیل برہوم، جو نصیر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں اس وقت شہید ہوگئے، کچھ گھنٹے قبل وہ ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال لائے گئے تھے۔

اسماعیل برہوم حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چوتھے رکن ہیں جو اتنے کم دنوں میں شہید ہوئے ہیں۔

اس سے قبل اتوار کے روز اسرائیلی فورسز نے صلاح البرداویل کو اس وقت شہید کیا تھا، جب وہ المواسی میں اپنی اہلیہ اور بچی سمیت ایک خیمے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

صرف یہ جوڑا ہی غزہ کی سیاسی قیادت نہیں، جو حالیہ دنوں میں شہپید ہوئے ہوں۔

18 مارچ کو جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ توڑا تھا اور غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کی تھی تو اسرائیلی افواج نے مزید 4 سینئر اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا، ان میں حکومتی پبلک ورکس کے سربراہ عصام الدلس، وزارت انصاف کے انڈر سیکریٹری احمد الحطہ، وزارت داخلہ کے انڈر سیکریٹری محمود ابو وتفا اور انٹرنل سکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر جنرل بہجت ابو سلطان شامل ہیں۔

حماس کے مطابق اسرائیل اس سے قبل حماس کے پولیٹیکل بیورو کے مزید 9 ارکان کو بھی شہید کر چکا ہے، ان میں اسماعیل ہانیہ، یحییٰ سنوار، صالح العوری، روہی مشتہ، سمیح السراح، مروان عیسیٰ، زکریا معمر، جمیلہ شانتی اور جواد ابو شمالہ شامل ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپے

قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں رات گئے چھاپے مارے ہیں، سلات الحارثیہ کے قصبے، قلقیلیہ اور قطنا کے قصبے پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔

وفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ شہر کے قریب واقع شکبہ اور المغیر گاؤں پر بھی دھاوا بول دیا۔

دریں اثنا جینن میونسپلٹی نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حکام نے کیمپ میں تقریباً 66 رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کے اضافی احکام جاری کیے ہیں، جو 300 رہائشی یونٹس کے مساوی ہیں۔

ناقابل تصور، غزہ میں اسرائیلی بستیاں

مقبوضہ مغربی کنارے میں گھسنے سے لے کر غزہ پر قبضہ کرنے تک، اسرائیل کے آباد کاروں کے پاس پہلے سے کسی بھی وقت کے مقابلے میں آج سب سے زیادہ طاقت ہے۔

ایک زمانے میں بہت سے اسرائیلیوں کے لیے ناقابل تصور سمجھی جانے والی ، غزہ کی پٹی میں بستیوں کے دوبارہ قیام کے ان کے مطالبے میڈیا کے مرکزی دھارے کی بحث میں شامل ہو گئے ہیں۔

اردن کی فلسطینیوں کی بے دخلی کی مذمت

اردن کی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے لیے ایک سرکاری ایجنسی قائم کرنے کے اسرائیل کے فیصلے کی ’سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 13 نئی غیر قانونی بستیوں کو تسلیم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات غیر قانونی ہیں، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور فلسطینیوں کو ان کی مقبوضہ زمین سے جبری بے دخلی کے جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔

اسرائیل کا یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی آبادی بشمول مصر اور اردن کی منتقلی کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔

تاہم غزہ میں فلسطینیوں نے ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’نسلی صفائی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر رہنا چاہتے ہیں۔

مصر سمیت دیگر عرب ممالک نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی ہے، اور غزہ کے رہائشیوں کو منتقل کیے بغیر اس کی تعمیر نو کی جوابی تجویز پیش کی ہے۔

امریکی حملوں میں یمنی شہری نشانہ

یمن کے حوثیوں کی حمایت یافتہ حکومت نے امریکا پر یمن میں ’نہتے شہریوں کی جانیں لینے‘ کا الزام عائد کیا ہے، حوثیوں کی حکومت نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ یمن میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

یہ بیان یمن کے دارالحکومت صنعا پر امریکی حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کم از کم ایک شخص جاں بھق اور ایک درجن سے زائد یمنی شہری زخمی ہوئے تھے۔

یمنی حکومت کے مطابق ’ہدف بنائے گئے مقامات کی تصاویر، مناظر، شواہد، متاثرین کی اقسام اور زندہ بچ جانے والوں کی شہادتیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وہ رہائشی علاقوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور یہ اس بات کا حتمی ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ امریکا جان بوجھ کر نہتے شہریوں کی جانیں لے رہا ہے اور ہمارے لوگوں کی صلاحیتوں کو تباہ کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے یمن کو غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے سے نہیں روک سکیں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو یمن آگے چل کر لبنان اور حزب اللہ کی بھی حمایت کرے گا۔

دنیا

اسرائیلی حملوں میں شہید ہونیوالے فلسطینیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی

اسرائیلی حملوں میں شہید ہونیوالے فلسطینیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی

اکتوبر 2023 سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی گروپ حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد سے اسرائیل کے غزہ کے محصور علاقے پر حملوں میں کم از کم 50 ہزار 21 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 13 ہزار 274 زخمی ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں 1139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنوری میں کیے گئے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے انکار کے بعد غزہ پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی صورت میں اسرائیل کو غزہ سے اپنی افواج واپس بلانا پڑتیں ۔ یہ ایک شرط تھی جس پر اس نے مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں اتفاق کیا تھا۔

19 جنوری سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے دوران بھی، جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئی، اسرائیل نے غزہ میں 150 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا۔

شمالی غزہ میں غزہ شہر سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے ہانی محمود نے کہا کہ 50 ہزار شہادتیں صرف ایک محتاط تخمینہ ہے۔ یہ صرف وہ لوگ ہیں جو غزہ کی پٹی میں صحت کی سہولیات میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ بہت سے دوسرے ایسے ہیں جنہیں رجسٹر کیے بغیر دفن کر دیا گیا یا جو ملبے کے ڈھیروں تلے پھنس کر لاپتہ ہو گئے۔

ہانی محمود کا کہنا تھا کہ 50 ہزار سے زائد شہدا میں 17 ہزار بچے ہیں۔ ایک پوری نسل کا صفایا کر دیا گیا ہے، ان بچوں کو اپنے معاشرے کی سیاسی، معاشی اور فکری ترقی میں کردار ادا کرنا تھا۔

غزہ میڈیا آفس کے مطابق، تصدیق شدہ شہادتوں میں 11 ہزار سے زیادہ لاپتا افراد شامل نہیں ہیں جن کے شہید ہوجانے کا خدشہ ہے، جبکہ لینسیٹ جریدے میں گزشتہ جولائی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے مجموعی اثرات کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اصل اموات کی تعداد ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد ہوسکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بار بار دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حملوں میں حماس کے ارکان کو احتیاط سے نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن شہید ہونے والے شہریوں کی تعداد ایک مختلف کہانی سناتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمٰن نے الجزیرہ کو بتایا، ’اسرائیل گزشتہ 17 مہینوں سے اس قسم کے بے بنیاد دعوے کرتا رہا ہے، جن کی زمینی شواہد سے کوئی تائید نہیں ہوتی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کچھ ہے تو، شواہد اکثر شہریوں اور شہری انفرا اسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو بچوں کی بڑی تعداد میں شہادتوں کا سبب بنتا ہے۔

جبری انخلا

دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی غزہ کے شہر رفح کے رہائشیوں سے جبری طور پر انخلا کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس کے فوجیوں نے علاقے میں آپریشن شروع کر دیے تھے۔ فوج نے کہا کہ فوجیوں نے رفح کے تل السلطان کی آبادی کو گھیر لیا ہے۔

اسرائیل پر بارہا نام نہاد ’محفوظ علاقوں‘ کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا ہے جہاں اس نے لوگوں کو پناہ لینے پر مجبور کیا۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ شمالی غزہ میں بیت حنون میں آپریشن کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے، اسرائیل نے اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد جنگ بندی کو ختم کردیا کہ وہ حماس پر باقی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے فوجی راستہ اختیار کریں گے، جن کا جنوری کے جنگ بندی معاہدے میں تبادلہ نہیں ہوا تھا۔

حماس نےاس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اسرائیل پہلے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے راضی ہو جاتا ہے تو وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔

منگل سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد بچوں سمیت 600 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔

قبل ازیں حماس نے اعلان کیا کہ اس کے عہدیدار صلاح البردویل اتوار کی صبح خان یونس میں ان کے خیمے پر اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوجی جارحیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ مارچ کے اوائل سے اسرائیل کی مکمل ناکہ بندی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے علاقے میں خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غزہ میں سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ کو بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کو ’ظالمانہ اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں، امدادی ایجنسیوں اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے اسرائیل سے غزہ میں انسانی امداد کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دنیا

پوپ فرانسس کا غزہ پر اسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ

پوپ فرانسس کا غزہ پر اسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ

رومن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ پر اسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کردیا۔

بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پوپ فرانسس نے اتوار کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے فوری طور پر روک دینے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی بحالی اور فیصلہ کن جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

پوپ فرانسس نے اپنی اینجلس دعا میں لکھا کہ میں غزہ کی پٹی پر شدید اسرائیلی بمباری کے دوبارہ شروع ہونے پر غمگین ہوں، جس میں بہت سی اموات ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ 88 سالہ پوپ کو پانچ ہفتوں سے زیادہ عرصے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

88 سالہ پوپ فرانسس 14 فروری سے روم کے گیمیلی ہسپتال میں داخل تھے۔ انہیں شدید نمونیا لاحق ہونے پر ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کا علاج کیا گیا۔

پوپ فرانسس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق ڈسچارج کیے جانے کے بعد بھی انہیں ویٹیکن میں دو ماہ آرام کرنا ہوگا۔

پوپ فرانسس نے مزید کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں کہ فوری طور پر ہتھیاروں کو خاموش کر دیا جائے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ہمت کی جائے تاکہ تمام یرغمالیوں کو آزاد کرایا جا سکے اور ایک حتمی جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔

روحانی پیشوا کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال ایک بار پھر بہت سنگین ہوچکی ہے اور متحارب فریقوں اور بین الاقوامی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

دنیا

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی بحالی کا مطالبہ

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی بحالی کا مطالبہ

غزہ میں صہیونی ریاست کی جانب سے ماہ رمضان میں حالیہ حملوں کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے جنگ بندی معاہدے کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق تینوں یورپی ممالک نے غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے لیے دھچکا قرار دیا۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ہم غزہ میں شہریوں کی اموات پر صدمے اور خوف میں ہیں۔

بیان میں فریقین پر مذاکرات اور جنگ بندی معاہدے کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ مزید خون ریزی کسی کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ اسرائیل اور فسلطین کے درمیان طویل المیعاد جنگ بندی ہی امن کا واحد قابل اعتماد راستہ ہے۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حملوں سے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 130 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منگل سے شروع ہونے والے غزہ پر اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں مجموعی طور پر 634 افراد شہید اور 1172 زخمی ہوئے ہیں جب کہ مجموعی طور پر اب تک اس جنگ میں 49 ہزار 747 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

تینوں ممالک نے اسرائیل سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل کی اجازت دے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پانی اور بجلی سمیت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی کو بحال کرے ۔

دنیا

اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے جاری، 48 گھنٹوں میں 130 فلسطینی شہید

اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے جاری، 48 گھنٹوں میں 130 فلسطینی شہید

صہیونی ریاست کی جانب سے ماہ رمضان میں بھی غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں اور گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 130 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کے مختلف مقامات پر فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

غزہ شہر پر رات بھر ہونے والے ایک بڑے فضائی حملے میں 5 بچے شہید ہوگئے جب کہ اسرائیلی حملوں کے باعث ایک ہی خاندان کے کم از کم 8 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

شمالی غزہ کے شہر بیت لاہیا کے قریب الشما کے علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملوں اور دھماکوں کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید اور 5 زخمی ہوئے۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران صہیونی افواج کی جانب سے شمالی غزہ پر متعدد مہلک حملے ہوئے ہیں، ڈرون حملے میں شمال میں بے گھر افراد کے خیمہ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوئے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 130 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منگل سے شروع ہونے والے غزہ پر اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں مجموعی طور پر 634 افراد شہید اور 1172 زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 49 ہزار 747 ہوچکی ہے جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار 213 ہے۔

واضح رہے کہ صیہونی فوج نے گزشتہ روز ایک حملے میں کینسر کے مریضوں کے لیے قائم ترک فلسطین فرینڈشپ ہسپتال تباہ کر دیا تھا۔

صلاح الدین اسٹریٹ کے قریب نیٹزارم کوریڈور میں واقع یہ ہسپتال وسطی اور شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کے سابق فوجی حملے کے دوران کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

2017 میں ترکیہ کی جانب سے 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر عطیہ سے دوبارہ تعمیر کیے جانے کے بعد آج اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس ہسپتال میں سالانہ 10 ہزار کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔

دنیا

اسرائیلی سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس چیف کی برطرفی کا نیتن یاہو کا حکم معطل کردیا

اسرائیلی سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس چیف کی برطرفی کا نیتن یاہو کا حکم معطل کردیا

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے مقامی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ کی برطرفی کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے، اس حوالے احتجاج کرنے والے مظاہرین چوتھے روز بھی سڑکوں پر موجود رہے۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ شین بیٹ کے سربراہ رونن بار پر اعتماد کھو چکے ہیں اور انہیں برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس ہفتے یروشلم اور تل ابیب میں ہزاروں افراد نے برطرفی کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی، جسے ناقدین نے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

نیتن یاہو کی یروشلم رہائش گاہ کے باہر ہونے والے احتجاج میں شریک ایک کاروباری شخصیت اوری ارنن نے کہا کہ ’میں اسرائیل کے راستے کے اختتام کو دیکھ رہا ہوں جیسا کہ ہم ماضی میں جانتے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بات پر بہت تشویش ہے کہ یہ ایک جمہوریت کے طور پر اسرائیل کے آخری دن ہیں۔‘

عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدالت برطرفی کے خلاف دائر درخواستوں پر غور کر سکے گی، جسے کابینہ نے جمعرات کی رات منظور کیا تھا۔

رونن بار کی برطرفی نیتن یاہو کے حامیوں اور سیکیورٹی اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کے درمیان 2 سال سے زائد عرصے سے جاری دشمنی کے بعد دیکھنے میں آئی ہے، جو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی ناکامیوں کی وجہ سے مزید خراب ہو گئی تھی۔

رونن بار جو جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے مذاکرات میں اہم اسرائیلی مذاکرات کاروں میں سے ایک تھے، پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ تقریباً 18 ماہ میں اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیں گے، اور شن بیٹ کی حملے کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

نیتن یاہو، پارلیمنٹ میں محفوظ اکثریت کے ساتھ اور سخت گیر قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر کی واپسی سے تقویت پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

نیتن یاہو نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’کوئی خانہ جنگی نہیں ہوگی، اسرائیل کی ریاست ایک قانونی ریاست ہے اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی کہ شین بیٹ کا سربراہ کون ہوگا‘۔

قطر گیٹ کی تحقیقات

رونن بار کو برطرف کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب نام نہاد ’قطر گیٹ‘ کی تحقیقات پر کئی ماہ سے سخت لڑائی جاری ہے، جس میں نیتن یاہو کے دفتر سے افشا ہونے اور اثر و رسوخ پھیلانے کے الزامات شامل ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ شین بیٹ نے فروری میں ان الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اپنی برطرفی کے خلاف حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں رونن بار نے کہا تھا کہ وہ تحقیقات کی تکمیل کو ’اعلیٰ درجے کا عوامی فریضہ‘ سمجھتے ہیں۔

پاکستان

غزہ میں اسرائیلی سفاکیت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی ظلم میں شرکت کے مترادف ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

غزہ میں اسرائیلی سفاکیت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی ظلم میں شرکت کے مترادف ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی سفاکیت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی ظلم میں شرکت کے مترادف ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

لاہور میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت امریکی حمایت پر خاموش رہی تو آئندہ احتجاج امریکی سفارت خانہ کے اندر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سعودی عرب میں ہیں، امید ہے امریکا اور اسرائیل کی مذمت میں مشترکہ اعلامیہ جاری ہو گا، مزید کہا کہ افسوس ہے کہ مسئلہ فلسطین پر حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی خاموش ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سب پارٹیاں ٹرمپ کی خوشنودی کے حصول کے لیے دوڑ میں لگی ہیں، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی امریکا کی مذمت کریں۔

جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو فلسطین کی حمایت میں سامنے آ کر بیان دینا چاہیے، آرمی چیف حکومت سے بات کر کے اسلامی دنیا کے فوجی سربراہوں کا اجلاس بلائیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے خون کا سودا کیا گیا تو قوم حکمرانوں کو نشان عبرت بنا دے گی، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اہل فلسطین کے حق میں بڑے شہروں میں ملین مارچ کریں گے، قوم تیار رہے۔

دنیا

اسرائیلی فوج کے غزہ میں مظالم جاری، حملہ کر کے واحد کینسر ہسپتال تباہ کر دیا

اسرائیلی فوج کے غزہ میں مظالم جاری، حملہ کر کے واحد کینسر ہسپتال تباہ کر دیا

اسرائیلی فوج کے غزہ میں مظالم جاری ہیں، صیہونی فوج نے حملہ کر کے کینسر کے مریضوں کے لیے قائم ترک فلسطین فرینڈشپ ہسپتال تباہ کر دیا۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق صلاح الدین اسٹریٹ کے قریب نیٹزارم کوریڈور میں واقع یہ ہسپتال وسطی اور شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کے سابق فوجی حملے کے دوران کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

2017 میں ترکیہ کی جانب سے 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر عطیہ سے دوبارہ تعمیر کیے جانے کے بعد آج اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس ہسپتال میں سالانہ 10 ہزار کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ نیٹزارم کوریڈور کو بڑھا رہا ہے اور صلاح الدین اسٹریٹ پر تمام نقل و حرکت کو روک رہا ہے۔

غزہ کے شمال اور جنوب کے درمیان سفر کرنے کے خواہشمند افراد الرشید اسٹریٹ کا استعمال کرتے ہیں، جو اسرائیلی حملوں کی وجہ سے دن بدن خطرناک ہوتی جارہی ہے۔

ادھر، غزہ شہر میں اسلامی یونیورسٹی کی میڈیکل فسیلٹی پر بھی فضائی حملہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے جنوبی غزہ کے رفح پر زمینی حملے جاری ہیں جبکہ صیہونی فوج وسطی علاقوں کے قریب شمال کی طرف بڑھ رہی ہے۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ کے رفح پر زمینی حملہ جاری ہے اور فوجی دستے بیت لاہیہ اور وسطی علاقوں کے قریب شمال میں داخل ہو رہے ہیں۔

طبی حکام نے بتایا کہ منگل کو اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد سے حملوں میں 590 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی حملوں میں شدت کے ساتھ شہادتوں میں اضافہ جا رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 49 ہزار 617 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 12 ہزار 950 زخمی ہو چکے ہیں۔

دنیا

اسرائیلی وزیراعظم مخالف مظاہرین کی یروشلم پولیس کے ساتھ جھڑپ

اسرائیلی وزیراعظم مخالف مظاہرین کی یروشلم پولیس کے ساتھ جھڑپ

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مقامی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ کو معزول کرنے کے اقدام کے خلاف مظاہرے مسلسل تیسرے دن بھی بھڑک اٹھنے کے بعد جمعرات کو اسرائیلی پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور متعدد گرفتاریاں کیں۔

ڈان اخبار میں شائع ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں اسرائیلیوں نے شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے اقدام پر نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ کیا اور غزہ میں دو ماہ سے جاری جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے پر ناراض مظاہرین کے ساتھ شامل ہوئے، حالانکہ 59 اسرائیلی قیدی اب بھی فلسطینی انکلیو میں ہیں۔

59 سالہ رینات ہداشی نے یروشلم میں کہا کہ ’ہم بہت، بہت پریشان ہیں کہ ہمارا ملک ایک آمریت بنتا جا رہا ہے، وہ ہمارے یرغمالیوں کو چھوڑ رہے ہیں، وہ اس ملک کے لیے تمام اہم چیزوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘

جمعرات کو پولیس اور مظاہرین میں اس وقت جھڑپیں ہوئیں جب سیکڑوں افراد نے یروشلم میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک پر مارچ کیا، جہاں پولیس کے مطابق درجنوں مظاہرین نے حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں تل ابیب میں کریا ملٹری ہیڈ کوارٹرز کمپلیکس کے باہر احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا۔

ایک دن قبل مظاہرین اور اقدامات کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے درمیان تصادم ہوئے تھے، جو اس تقسیم کو نمایاں کرتے ہیں جو 2022 کے آخر میں دائیں بازو کے اتحاد کی سربراہی میں نیتن یاہو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے گہری ہوگئی ہے۔

دنیا

غزہ: صہیونی فورسز کی آج بھی سحری کے وقت بمباری، بچوں سمیت مزید 71 فلسطینی شہید

غزہ: صہیونی فورسز کی آج بھی سحری کے وقت بمباری، بچوں سمیت مزید 71 فلسطینی شہید

غزہ کے شمالی اور جنوب میں سحری کے وقت اسرائیل کے تازہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 71 فلسطینی شہید ہو گئے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں 71 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، فلسطینی خبر رساں ادارے ’وفا‘ کے مطابق اسرائیلی حملوں کا زیادہ تر نشانہ خاندانوں کے گھر تھے، جن گھروں پر حملہ کیا گیا ان میں سہیلہ میں ابو دیب خاندان کے گھر کے 7 افراد شہید ہوئے۔

صہیونی فورسز کے حملوں میں اباسان الکبیرہ میں ابو دقہ خاندان کے 8 افراد شہید ہوئے، الفخری میں الامور خاندان کے گھر 3 افراد شہید ہوئے، رفاح کے قریب موسبہ میں جابر خاندان کے گھر کے 10 افراد شہید ہوئے، بیت اللحیا کے قریب ایک گھر کے 7 افراد شہید ہوئے۔

غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں آج صبح سے فضائی حملوں میں حیرت انگیز اضافہ ہوا، جہاں اسرائیلی فضائیہ نے خان یونس اور رفح شہروں میں مکینوں سے بھری کم از کم 10 رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

شمال میں ایک اور رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، شہدا میں بچوں اور خواتین کے ساتھ ایک نوزائیدہ بچہ بھی شامل ہے۔

اسرائیل ایک واضح تذویراتی نقطہ نظر استعمال کر رہا ہے، جس میں ان عمارتوں پر حملہ کرنے سے پہلے شہریوں کو کسی قسم کی وارننگ نہیں دی جاتی، جن میں وہ پناہ لے رہے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے منگل کے روز بتایا گیا تھا کہ حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد سے 183 بچوں سمیت 436 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف شدید جنگ کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑے اور مضبوط محاذ کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 49 ہزار 547 فلسطینیوں کی شہادت اور ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتائی ہے اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینی وں کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کی زیر قیادت حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

حوثی باغیوں کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر حملہ

حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملہ کیا ہے۔

اس سے پہلے الجزیرہ نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو ملک کی علاقائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا تھا۔

حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ العسری نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کی مسلح افواج نے فلسطین ٹو ہائپر سونک بیلسٹک میزائل سے مقبوضہ جافہ کے علاقے میں بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔

ترجمان نے کہا کہ آپریشن نے کامیابی کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور پر کار اسرائیلی مظاہرین سے ٹکرانے کا الزام

اسرائیلی میڈیا اور یہودی فلسطینی کارکن گروپ اسٹینڈنگ ٹوگیدر کے مطابق ایک ٹیکسی ڈرائیور نے غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خلاف یروشلم میں ہونے والے احتجاج میں شریک لوگوں پر کار چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 27 سالہ اسرائیلی امن کارکن اوڈیڈ روتیم زخمی ہوگئے۔

گروپ نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آج رات اس خوفناک جنگ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ٹیکسی ڈرائیور جان بوجھ کر اوڈیڈ پر چڑھ دوڑا، جو اسٹینڈنگ ٹوگیدر کارکنوں اور قیادت کے ارکان میں سے ایک ہے‘۔

گروپ نے مزید کہا کہ اوڈیڈ بے ہوش ہو گیا اور اس کی ٹانگ میں چوٹ لگی، اور فی الحال وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے’۔

سلامتی کونسل سے ’جنگی مشین‘ رکوانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں فلسطین کے مشن نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملے کو روکنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے، جس میں اب تک کم سے کم 500 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 183 بچے بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بے سہارا شہری آبادی کے خلاف طاقت کے بے رحمانہ اور غیر قانونی استعمال کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی کارروائیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی سلامتی کونسل کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گی۔

نیتن یاہو کی ججز کو ہٹانے کی کوشش کےخلاف احتجاج

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے یروشلم کی طرف مارچ کیا، جس میں اہم سیکیورٹی اور عدالتی عہدیداروں کو ہٹانے کی کوششوں اور عدلیہ پر سیاسی طاقت بڑھانے کے لیے انتہائی متنازع قانون سازی کی تجدید اور غزہ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد احتجاج کیا گیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بدھ کی ریلی کے دوران اور رات بھر جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 12 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، مظاہرین کے ساتھ پولیس کی جھڑپیں ہوئیں اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

یہ بڑے مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکومت شین بیٹ کے سربراہ رونن بار اور اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا کو ہٹانے کی کوشش کی، جو حالیہ مہینوں میں نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے اتحاد کی ناراضی کا شکار رہے ہیں۔

دنیا

اسرائیل نے غزہ کے نیٹزارم کوریڈور پر قبضہ کرلیا

اسرائیل نے غزہ کے نیٹزارم کوریڈور پر قبضہ کرلیا

اسرائیلی فوجیوں نے نیٹزارم کوریڈور پر دوبارہ قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں غزہ نصف میں تقسیم اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود ہوگئی۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری کشیدگی میں پہلے ہی کم از کم 436 افراد شہید ہو چکے ہیں، اس کا مقصد علاقے میں ’جزوی بفر‘ پیدا کرنا ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں صیہونی فوج نے لکھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے وسط اور جنوب میں ایک مرکوز زمینی حملے شروع کیے ہیں، جس کا مقصد پٹی کے شمال اور جنوب کے درمیان جزوی بفر بنانا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز نے نیٹزارم کوریڈور پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، جہاں سے وہ فروری میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت واپس چلے گئے تھے۔

اسرائیل کی قائم کردہ یہ راہداری شمالی غزہ کو جنوب سے الگ کرتی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق منگل کی صبح دوبارہ شدت سے شروع ہونے والے اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں 183 بچوں سمیت 436 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا، اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ غزہ کے ’علاقوں‘ سے فلسطینیوں کا انخلا جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

ایک بیان میں وزیر نے وارننگ دی کہ اسرائیل جارحیت کو تیز کر رہا ہے، مزید کہا کہ اگر غزہ میں حماس نے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو اسرائیل اس شدت کے ساتھ کارروائی کرے گا جو آپ نے نہیں دیکھی ہو گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں راتوں رات سیکڑوں فلسطینیوں کی شہادت کا سبب بننے والے فضائی حملے’صرف ابتدا’ ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق منگل کی شام ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج، حماس پر بڑھتی ہوئی طاقت سے حملہ کریں گی اور جنگ بندی کے لیے بات چیت اب صرف شعلوں کے درمیان ہی ہوگی۔

اسرائیلی رہنما نے کہا تھا کہ حماس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری طاقت کا وزن محسوس کر لیا ہے اور میں آپ کو اور انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ’یہ صرف آغاز‘ ہے۔

کھیل

عثمان خواجہ نے ایک بار پھر فلسطین کے لیے آواز اٹھادی

عثمان خواجہ نے ایک بار پھر فلسطین کے لیے آواز اٹھادی

پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے ایک بار پھر فلسطین کے لیے آواز اٹھادی۔

آسٹریلیا کے ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’تھریڈ‘ پر فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم سے متعلق ایک پوسٹ کی جسے انہوں نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا۔

پوسٹ میں آسٹریلیا کے اوپننگ بلے باز عثمان خواجہ نے لکھا ’غزہ میں بغیر کسی وجہ کے جنگ بندی کو ختم کیا گیا اور صرف ایک دن میں 123 بچے مارے گئے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ تصویر کریں اگر یہی معاملہ مخالف سمت میں ہوتا (یعنی اسرائیل میں اس طرح بچے مارے جاتے) تو دنیا کس طرح اس کا رد عمل دیتی اور غصے کا کیا عالم ہوتا۔

’تاہم، بدقسمتی سے تمام زندگیاں برابر نہیں ہیں، یہ بچے صرف میں تاریخ میں نمبرز کی حد تک رہ جائیں گے لیکن آپ لوگوں کی طرح ان بچوں کے بھی اپنے نام، بہن بھائی، والدین اور خاندان ہیں‘۔

عثمان خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان مظالم کو معمول پر نہیں لاسکتے، حالانکہ مجھے ڈر ہے کہ ہم شاید پہلے ہی ایسا کر چکے ہیں، مجھے یقین نہیں ہورہا ہے کہ یہ اب بھی ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ عثمان خواجہ ماضی میں بھی فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

اس سے قبل، انہوں نے سری لنکا ٹیسٹ سیریز کی کوریج کرنے والے آسٹریلوی صحافی پیٹر لالور کو اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر نوکری سے نکالے جانے کی سخت مذمت کی تھی۔

EOT);