دھماکا خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا، دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا، ڈی آئی سی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر
ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکیلوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ریاض علی سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی ہیں۔
کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، وزیر داخلہ سندھ کی پریس کانفرنس
واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان چلتے دیکھا گیا جبکہ ایک اور ویڈیو میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آئے جو کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔
دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ فجر کے بعد مساجد میں قائداعظم، ملک کے امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
کمشنر کراچی نے تعمیراتی سامان لے جانے والے ڈمپراور دیگر ہیوی ٹریفک پر شہر کے تمام علاقوں میں مکمل پابندی عائد کر دی ہے تاہم انہیں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک داخلے کی اجازت ہوگی۔
سال 2025ء میں 25 ہزار سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلوں نے 10 ہزار سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا، 13 ہزار سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈان پاکستان کے معتبر ترین میڈیا اداروں میں شامل ہے اور سرکاری اشتہارات کی بندش ادارے کو مالی طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔
جہاں جہاں سے ریلی کے شرکا گزرے وہاں ہنگامہ کیا گیا، افسوس ناک اور شرمناک عمل تھا، جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سارے سانحہ پر حکومت سندھ کے رد عمل کو دیکھنا تھا۔
ٹاؤنز کو اب تک 14 ارب روپے تقسیم کر چکے، ہر یو سی کیلئے گرانٹ بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دی، ٹاؤنز کے پاس روڈ کٹنگ فنڈز کے تحت 70 کروڑ روپے ہیں، میئر کراچی
مدعی نے مقدمہ تو درج کرایا، مگر کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کر سکا، 5 گواہوں میں شکایت کنندہ کے علاوہ تمام پولیس اہلکار تھے اور وہ حقائق سے واقف نہیں تھے، اے ٹی سی کا فیصلہ
بطور میئر کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ندامت کا اظہار کر رہا ہوں، بلیم گیم سے آگے نکل کر ذمہ داری لیتا ہوں، الزام تراشی کو پیچھے رکھ کر اوپر والے سے اور ان کے گھر والوں سے معافی چاہتا ہوں۔ مرتضیٰ وہاب کی گفتگو