اسرائیل نےثالثوں کے ذریعےحماس سے 11 یرغمالیوں کی رہائی اور 16 لاشوں کی واپسی کے علاوہ غزہ میں باقی قیدیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی میڈیا
28 سالہ زوی کوگن مالدووا کی شناختی دستاویزات کے تحت متحدہ عرب امارات میں اہلیہ کے ساتھ رہائش پذیر تھا، اسے نومبر 2024 میں ازبک باشندوں نے اغوا کے بعد قتل کیا تھا۔
جن مساجد میں نماز پڑھتے تھے، وہ ملبے کے ڈھیر بن گئیں، جن جگہوں پر ہم جمع ہوتے تھے وہ اب کھنڈرات اور لاشوں سے بکھرے ہوئے ہیں، سب کچھ کھو دیا، غزہ کے رہائشی غم سے نڈھال
غزہ میں ہمارے پاس موجود خوراک کا ذخیرہ تقریباً 10 دن میں ختم ہو سکتا ہے، جس کے بعد لاکھوں افراد کھانے سے محروم ہو جائیں گے، ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کر دیا
آسکر جیتنے کے بعد توقع نہیں تھی کہ اس طرح کے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ بہت مضبوط حملہ تھا اور اس کا مقصد قتل کرنا تھا، حمدان بلال رہائی کے بعد گفتگو
غزہ میں کھانے پینے کی اشیا ختم، گیس کی سپلائی بھی بند، طبی ساز وسامان اور دوائیں ناپید، صہیونی افواج کی شام کے شہر درعا میں بمباری سے 5 شہری شہید ہوگئے۔
آبادکاروں کے ایک گروہ نے حمدان بلال پر حملہ کیا، انہیں مارا پیٹا، جس سے ان کا خون بہہ رہا تھا، سپاہیوں نے ایمبولینس پر حملہ کیا جس کے بعد سے ان کا کچھ پتا نہیں، ساتھی ہدایت کار
مصری تجویز میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ہفتے 5 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے جبکہ اسرائیل پہلے ہفتے کے بعد جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کرے گا، سیکیورٹی ذرائع
اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی نوجوان بھی شہید، ناجائز صیہونی ریاست کا غیر قانونی بستیوں کو غزہ تک توسیع دینے کا گھناؤنا منصوبہ، اردن کی جبری بے دخلی کی مذمت
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوئے، غزہ کے محصور علاقے پر حملوں میں کم از کم 50 ہزار 21 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 13 ہزار 274 زخمی ہوچکے ہیں، وزارت صحت غزہ
نیا نظام 600 کلومیٹرکے اندر کسی بھی ہدف کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، ہم خطے میں دشمن کے ٹھکانوں، بحری جہازوں اور اثاثوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نیول کمانڈر پاسداران انقلاب
مزید خون ریزی کسی کے مفاد میں نہیں، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی ہی امن کا واحد قابل اعتماد راستہ ہے، تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان
وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری وفد میں شامل عہدیداروں کے ہمراہ عمرہ ادا کرلیا، خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیے اور ملک و قوم اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے دعا کی۔