اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔
شائع09 جنوری 202602:43pm
اگر ایک منافع بخش ہوتی ہوئی پی آئی اے، جسے بہترین روٹس واپس مل چکے تھے، جس کا بڑا قرض ختم ہوچکا تھا، کو اونے پونے بیچ دیا گیا تو یہ اس کی حیثیت سے زیادہ ہمارے نجی شعبے کی پوری قیمت ادا کرنے سے ہچکچاہٹ اور مسلم لیگ (ن) کی انہیں خوش کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
ملک کو سیاسی مفاہمت، معاشی اصلاحات، انسانی ترقی اور سکیورٹی جیسے باہم جڑے بحرانوں کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی فریقوں کو ایک جامع قومی ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہوگا۔
سال 2025 میں دہشت گردی میں مسلسل پانچویں سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حملوں اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافے نے واضح کر دیا ہے کہ یہ محض عارضی دھچکے نہیں بلکہ سنگین سکیورٹی بحران ہے۔
رانا ثنااللہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ بیانات نے سیاسی جمود توڑنے کی ایک ممکنہ راہ دکھائی ہے، جسے حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے، ورنہ ملک عدم استحکام اور معاشی ابتری کی طرف جا سکتا ہے۔
یہ سوار زیادہ تر کم عمر اور نوجوان ہوتے ہیں، ان کے پاس حفاظتی سامان کے نام پر صرف آنکھوں پر لگے گوگلز ہوتے ہیں، تاکہ گرد و غبار سے نظر دھندلی نہ ہو۔ ان کی موٹر سائیکلیں بالکل برہنہ ہوتی ہیں، تیز رفتاری کی غرض سے ہر غیر ضروری پرزہ ہٹا دیا جاتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں خواتین کے اسکوٹر پر سفر کیلئے غیر تحریری مگر سخت سماجی اصول موجود ہیں، جن کے تحت عورت خود ہینڈل نہیں پکڑ سکتی اور اگر وہ پیچھے بیٹھی ہو تو اسے ایک مخصوص انداز میں بیٹھنا ہوتا ہے، اس سے ہٹ کر کوئی بھی طرزِ نشست بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہجوم پہلے سے زیادہ تیزی سے بنے گا، تیزی سے بکھرے گا اور زیادہ غیر متوقع انداز میں عمل کرے گا۔ اگر ادارے خود کو تبدیل نہیں کر سکے تو اگلا بڑا بحران کسی سیاسی اعلان یا مذہبی خطبے سے نہیں بلکہ کسی بارہ سیکنڈ کے کلپ سے شروع ہوگا۔
حکومت اپنے لیے نئے مسائل پیدا کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ کورٹ مارشل میں کن امور کو قابلِ سزا قرار دیا گیا۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا فیض حمید کی سزا مستقبل میں اسی نوعیت کی طاقت رکھنے والوں کے لیے واقعی کوئی رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔
اگرچہ آئی ایس پی آر نے کسی سیاسی جماعت یا رہنما کا نام نہیں لیا، مگر ’سیاسی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ‘ جیسے بار بار استعمال ہونے والے جملے کو عام طور پر سابق وزیرِاعظم عمران خان کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
آج پہلے سے زیادہ ملک کو سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ اصل چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔ سابق وزیر اعظم کو ’سکیورٹی تھریٹ‘ قرار دینا یا سکیورٹی اداروں کو گالیاں دینا موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ کرے گا۔
فرانسوا ڈووالئیر سے لے کر کِم خاندان تک، کئی عالمی رہنماؤں نے جادوئی طاقتوں کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی حکمرانی کو مضبوط کیا، عوام میں خوف پھیلایا اور عوام کی توہم پرستی کا فائدہ اٹھایا۔
غفار خان اور ولی خان سے لیکر بینظیر بھٹو اور نواز شریف تک، کئی سیاستدانوں کو بدعنوان یا ریاست مخالف قرار دیا گیا، عمران خان نے خود سخت زبانی کو فروغ دیا
ہندوؤں کے ابتدائی دور میں بت پرستی کا تصور ہی نہیں تھا بلکہ عبادت زیادہ تر شخصی نوعیت کی قدرتی طاقتوں پر مرکوز تھی تو ہندو بت پرستی کی جانب راغب کیوں ہوئے؟
اسلام آباد کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں فعال کردار، ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ تنازعات کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے, چانچہ پاکستان کو بہت احتیاط سے اپنے انتخاب کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
تشویشناک طور پر بے روزگاری کی شرح 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ ہے جبکہ آبادی کی شرح 2 فیصد سے زائد ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع مزید کم ہوجاتے ہیں۔
’دبئی کے لیے سنگل انٹری ویزا کی درخواستوں کو 70 سے 80 فیصد تک مسترد کر دیا جاتا ہے لیکن یو اے ای میں خاندانی تعلقات رکھنے والے افراد کی ویزا منظوری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں‘۔
ایک پاکستانی خیرخواہ کی جانب سے لکھا گیا خط بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمدردی کا جذبہ کس طرح تلخیوں کو پُرسکون کر سکتا ہے۔
کبھی پانی سے چلنے والی کار، کبھی 10 ارب ڈالر تو کبھی تیل کے ذخائر، ہر کچھ عرصے بعد ایسی افواہیں اڑائی جاتی ہیں اور عوام کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ تمام ملکی مسائل حل ہونے والے ہیں۔
لقاعدہ کو گمان ہوسکتا ہے کہ اگر وہ کسی ملک کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو وہ بین الاقوامی برادری سے بھی اسی طرح کی پہچان اور قبولیت حاصل کر سکتے ہیں جو شام کے صدر اور افغان طالبان کو ملی ہے۔