سال 2025 میں دہشت گردی میں مسلسل پانچویں سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حملوں اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافے نے واضح کر دیا ہے کہ یہ محض عارضی دھچکے نہیں بلکہ سنگین سکیورٹی بحران ہے۔
رانا ثنااللہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ بیانات نے سیاسی جمود توڑنے کی ایک ممکنہ راہ دکھائی ہے، جسے حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے، ورنہ ملک عدم استحکام اور معاشی ابتری کی طرف جا سکتا ہے۔
حکومت اپنے لیے نئے مسائل پیدا کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ عمران خان کی طویل تنہائی میں قید کو ’تشدد یا دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
غفار خان اور ولی خان سے لیکر بینظیر بھٹو اور نواز شریف تک، کئی سیاستدانوں کو بدعنوان یا ریاست مخالف قرار دیا گیا، عمران خان نے خود سخت زبانی کو فروغ دیا
طویل عرصے سے پاکستان کے بڑے شہر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ رہے ہیں، لیکن اسلام آباد میں خودکش حملہ ایک بڑی سیکیورٹی کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے۔
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا تھا لیکن جب طاقتور سلطنت نافرمان قوم کو 'سزا' دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ان حقائق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔